شب برات میں قبرستان جانا؟ || شب برات میں قبرستان جانے کی اہمیت || شب برات میں قبرستان جانے کے مساٸل || شب برات میں قبرستان جانے پر تقی عثمانی کے اعتراض کا جواب۔۔
شب برات میں قبرستان جانے کے دوام پر تقی عثمانی کے اعتراض کا جواب۔۔ (پرانی تحریر مع اضافہ و ترمیم) موصوف کو صرف اس پر اعتراض ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم زندگی میں صرف ایک بار قبرستان تشریف لے گئے ہیں لہذا ہم کو بھی زندگی میں ایک بار جانا چایئے؟ موصوف کو مستحب کی تعریف میں دوام اور عدم دوام سے مغالطہ ہوا ہے۔۔۔کیونکہ مستحب کی تعریف میں عدم دوام و دوام داخل ہیں۔ یہ دوام بنسبت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہے، امت کی نسبت سے نہیں۔کیونکہ فعل کی تقسیم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے ہوتی ہے۔امت اگر مستحب کے اوپر ہمیشگی کرے تو وہ مستحب ہی رہے گی سنت یا واجب نہیں اور فاعل کو ثواب ملے گا۔ لہذا اگرچہ نبی پاک سے شب برأت میں قبرستان جانا صرف ایک ہی بار ثابت ہے تاہم امت کے لئے یہ کام ہر شب برات میں مستحب ہے، اس کا مطلب یہ ہے اس مبارک رات میں قبرستان جانا ثواب کا باعث ہے اور نہ جانا گناہ نہیں اسی طرح نہ جانے والے کو ملامت کرنا بھی منع ہے۔ کیونکہ فقھاء کرام نے اس بات کی تصریح فرمائی ہے کہ جو کام نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے صرف ایک یا دو بار ثابت ہو وہ مستحب ہوتا ہے۔ جی...