اشاعتیں

اپریل, 2023 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ایک بلی کی در رسولﷺ سے محبت کا واقعہ

تصویر
  ایک بلی کی در رسولﷺ سے محبت کا واقعہ ایک بلی کی در رسولﷺ سے محبت کا واقعہ اک بہت بڑے بزرگ انتقال کر گئے ہیں جناب سید منظور احمد شاہ صاحب انہوں نے اک کتاب لکھی تھی ( مدینتہ الرسول ﷺ) اُس میں حضرت لکھتے ہیں میں ایک بار حج کرنے کے لئے آیا تو پاکستان سے ایک سیاسی بندہ بھی حج کرنے کے لئے آیا ہم ایک ہی کمرے میں ٹھہرے ھوئے تھے  شاہ صاحب لکھتے ہیں کے ہم نے دروازہ کھولا تو ا یک بلی اندر آگئی تو ہم نے بڑی محبت کی کے یہ شہر رسول اللّٰہ ﷺ کی بلی ہے کہتے ہیں کہ اس وقت روٹی تھی ہم نے پیش کی تو اُس نے بھی قبول کر لی اگلے روز پھر آئ تیسرے روز پھر آئی تو ہم نے ایک قدم آگے بڑھایا اور مارکیٹ میں بلییوں کے لئے جو خاص پروڈکٹ (خوراک ) بنی ہے ہم وہ خرید لائے جب بھی بلی آتی ہم وہ خوراک اسے کھلاتے رہے۔   پھر ہوا یوں کے جو سیاسی شخصیت آئ تھی پاکستان سے وہ بلی سے جی لگا بیٹھی اور اس نے فیصلہ کیا جاتے ھوئے بلی کو ساتھ لے کے جانا ہے پاکستان ۔ پرویز مشرف کا دور حکومت تھا اجازت لی سعودی حکومت سے اجازت لی پی آئی اے سے کاغذی کروائی مکمل کروائی بلی کے لئے بہت خوبصورت پنجرہ تیار کروایا گیا۔  من...

خانہ کعبہ کے اندر لٹکے ہوئے برتن نوادرات دراصل کیا ہیں؟

تصویر
  خانہ کعبہ کے اندر لٹکے ہوئے برتن نما نوادرات دراصل کیا ہیں؟ ہم میں سے اکثر لوگ جب خانہ کعبہ کے اندرونی مناظر دیکھتے ہیں تو جو چیز ہم کو سب سے زیادہ عجیب لگتی ہے وہ پرانے برتن نما نوادرات ہیں۔ آج ہم اس پوسٹ میں خانہ کعبہ کے اندرونی منظر پر مختصر تعارف پر بات کریں گے۔ کعبۃ اللہ قریباً 180 مربع میٹر رقبے پر محیط ہے اور اس کی چھت لکڑی کے تین مضبوط ستونوں پر ایستادہ ہے. ستونوں کی لکڑی دنیا کی مضبوط ترین لکڑیوں میں سے ایک ہے اور صحابیِ رسول حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے لکڑی کے یہ تینوں ستون بنوائے تھے. گویا اس وقت ان کو تقریباً 1350 سال گزر چکے ہیں.ان کی رنگت گہری بھوری ہے. لکڑی کے ہر ستون کا عمود ( محیط) قریباً 150 سینٹی میٹر اور قطر (موٹائی) 44 سینٹی میٹر ہے.ان تینوں ستونوں کے درمیان میں ایک پتلی شہتیر نما لٹھ آویزاں ہے اور یہ تینوں کے بیچوں بیچ گزرتی ہے.اس پر کعبۃ اللہ کے تحائف اور نوادرات لٹکے ہوئے ہیں. یہ برتن نما نوادرات مختلف اسلامی ادوار کے دوران اسلامی ممالک کے سربراھان کی طرف سے کعبہ شریف میں پیش کئے جانےجانے والے نوادرات ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ان میں کچھ نوادرات دور نبوی...

غزوہ بدر الکبریٰ

تصویر
  غزوہ بدر الکبریٰ محترم قارئینِ کرام : غزوہ بدر تاریخ اسلام کا وہ معرکہ ہے جب اسلام وکفر ، حق و باطل کی پہلی ٹکر ہوئی ، اس معرکہ میں فرزندانِ اسلام کی تعدادکفار کے مقابلے میں ایک تہائی تھی ، بے سروسامانی کا عالم تھا جبکہ باطل ، حق کامقابلہ کرنے کےلیے بڑے کرّوفر اور غرورورعونت کیساتھ میدان میں اترا لیکن اسے ایسی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا کہ پھر کبھی بھی اسے حق کو اس شان سے للکارنے کی ہمت نہ ہوئی ۔ مؤرخین اسے غزوہ بدر الکبریٰ کے نام سے یاد کرتے ہیں جبکہ قرآن عظیم میں یوم الفرقان کے لقب کیساتھ ذکر کیا گیا ہے یعنی وہ دن جب حق اور باطل کے درمیان فرق اس طور پر واضح ہواکہ اندھوں اوربہروں کو بھی پتہ چل گیا کہ حق کا دعویدار کون ہے اور باطل کا محب کون ہے ؟ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وما انزلناعلی عبدنایوم الفرقان یوم التقیٰ الجمعٰن ۔ (سورہ الانفال:۱۴) ترجمہ : اور جیسے ہم نے اتارا اپنے بندے پر فیصلے کے دن جس روز دولشکر آمنے سامنے ہوئے تھے ۔ نبی کریم کرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ تین سوتیرہ افراد کولے کرقریش کے تجارتی قافلے کوروکنے کےلیے نکلے جوکہ شام سے ابو سفیان کی سربراہی م...

مسجد اقصیٰ فضائل مسجد اقصیٰ

تصویر
فضائل مسجد اقصیٰ تین اہم مساجد میں سے ایک اس مسجد کی ایک فضیلت اور خصوصیت یہ ہے کہ یہ مسجد اُن تین مساجد میں شامل ہے جن کی طرف سفر کرنے کی بطورخاص اجازت دی گئی ہے اور اس کی طرف سفر کرنے کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:  تین مساجد کے علاوہ کسی اور مسجد کی طرف سفر نہ کیا جائے(اور وہ تین مساجد یہ ہیں): مسجد حرام ، مسجد نبوی، مسجد اقصیٰ ‘‘ (بخاری،١١٨٩) یعنی: اگر کوئی انسان عبادت اور تقرب الی اللہ کی نیت سے کسی مسجد کی طرف سفر کرکے جانا چاہتا ہے تو باقی مساجد ثواب کے اعتبار سے برابر ہیں اس لیے ان مساجد میں کسی کو کسی پر ترجیح حاصل نہیں لیکن یہ تین مساجد اس حکم سے مستثنیٰ ہیں، اس لیے ان کی طرف سفر کرنا جائز ہے۔ مسلمانوں کا قبلہ اول تھا  جب تک مسلمانوں کے لیے کعبہ شریف کا قبلہ مقرر نہیں کیا گیا تھا اُس وقت تک مسلمانوں کے لیے قبلہ یہی ’’مسجد اقصیٰ‘‘ تھی، اس طرح یہ مسلمانوں کا پہلا قبلہ تھی، اس بنیاد پر اس کی جو فضیلت اور مسلمانوں کے دل میں اس کا جو مقام ہونا چاہیے وہ بالکل واضح ہے۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہی...