قیامت کتنی قریب ہے
قیامت کتنی قریب ہے؟
![]() |
حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
لا تقوم الساعة حتى يحسر الفرات عن جبل من ذهب يقتتل الناس عليه، فيقتل من كل مائة تسعة وتسعون، ويقول كل رجل منهم: لعلي أكون أنا الذي أنجو.
اس وقت تک قیامت نہیں آئے گی جب تک دریائے فرات سونے کا پہاڑ نہ ظاہر کر دے
لوگ اس کو حاصل کرنے کے لیئے لڑیں گے
سو میں سے نناوے لوگ قتل ہو جائیں گے اور ہر ایک یہی کہے گا شاید میں ہی وہ ہوں جو بچنے والا ہوں گا!
(مسلم شریف)
ایک روایت میں ہے
فمن حضره فلا يأخذ منه شيئا
جو وہاں موجود ہو وہ اس سونے میں سے کچھ بھی نہ حاصل کرے
(بخاری شریف)
دریائے فرات میں سے سونے کے انبار نکلیں گے لازمی نہیں ویسا پہاڑ ہو جیسا ہم سمجھتے ہیں
مراد ہوسکتی ہے کہ سونے کے انبار ہوں
پرانی قوموں کے دفینے ہوں اور یہ تب ہوگا جب دریائے فرات خشک ہو جائے گا
اور اب اھم بات کی طرف توجہ کریں کہ دریائے فرات کتنے عرصے میں خشک ہونے والا ہے؟
تو عراق کے جمال ابراھیم الحلبوسی جو پانیوں دریاؤں کے معاملات کے ماہر ہیں وہ کہتے ہیں کہ
دریائے دجلہ و فرات 2040 تک مکمل خشک ہو جائیں گے!
اس وقت کی کیفیت یہ ہے کہ دریائے فرات مسلسل گھٹتا جا رہا ہے!
اور یاد رکھیں دریائے فرات کا خشک ہونا اور وہاں سو میں نناوے بندوں کو لڑائی میں مارے جانا قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے
اس کے کچھ عرصہ بعد ہی دجال ظاہر ہوگا!
یعنی ہم کہ سکتے ہیں کہ ہم انتہائی آخری زمانے میں داخل ہونے والے ہیں!
بس اللہ رب العزت ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے!

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں