اشاعتیں

جون, 2023 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

*سائنس کیا ہے

تصویر
 *سائنس کیا ہے؟ کارل پوپر نے سوال اٹھایا تھا کہ سائنس کیا ہے؟ سائنس اور سوڈوسائنس کی تفریق میں لکیر کہاں کھینچی جائے؟ انہوں نے اس کا ایک پہلا جواب دینے کی کوشش کی تھی جس کے مطابق کوئی ایک ایویڈنس کسی ہاپئوتھیسس یا تھیوری کو رد کرنے کی لئے کافی ہے۔ پوپر کا اپنا خیال ناکافی ہے۔ اصل سائنس پر یہ سادہ جواب کام نہیں کرتا۔ سائنس کا فلسفہ اس سے آگے اور زیادہ نفیس طریقوں کی طرف بڑھ چکا ہے۔   ہمارے پاس سائنس اور غیرسائنس کو الگ کرنے کا سادہ جواب اس لئے نہیں کہ یہ مسئلہ سادہ نہیں۔ سائنس کی تاریخ، نرم اور سخت سائنس، نیم سائنس اور سوڈوسائنس کا تجزیہ، دانشوروں یا ماہرین کا تجزیہ یہ سب اپنی جگہ۔ سوال یہ کہ اس سے سائنس کی تصویر کیا ابھرتی ہے؟ اور ایک آزاد معاشرے میں یہ تصویر ہمیں زیادہ باخبر شہری رکھنے میں کیسے مدد کر سکتی ہے؟  یہ تو واضح ہو چکا ہو گا کہ سائنس ایک قسم کی ایکٹیوٹی نہیں ہے۔ اس کو کرنے کے کئی طریقے ہیں۔ اس کا انحصار زیرِ مطالعہ مضمون کی پیچیدگی سے ہے (پارٹیکل فزکس بمقابلہ نیوروبائیولوجی) یا اس سے ہے کہ سسٹم کا اپنا تعلق ہسٹری سے کتنا ہے (کیمسٹری بمقابلہ آسٹرونومی)۔ جتنا ...

ایک چڑیا اور اس کی انجینئرنگ ۔۔ سبحان اللہ

تصویر
ایک چڑیا اور اس کی انجینئرنگ ۔۔       سبحان اللہ                       بیّا ننھی سی خوبصورت چڑیا۔ اسے Weaver Bird بھی کہتے ہیں یہ چھوٹی سی چڑیا اپنا خوبصورت گھونسلہ بناتی ہے جسے Retortکہتے ہیں اس کی شکل الٹی بوتل جیسی ہوتی ہے ۔ یہ گھریلو چڑیا کے سائز کے مماثل ہوتی ہے۔ یہ ہندوستان برصغیر‘ افریقہ اور جنوب مغرب ایشیائی ممالک میں بکثرت پائی جاتی ہے ۔ یہ عموما گھاس کے میدانوں ‘زرعی کھیتوں اورپانی کے ذخائر کے قریب کثرت سے دیکھی جاسکتی ہے ۔ بئیا یا بایا چڑیا عام طور پانی سے اوپر لٹکتی درختوں کی ٹہنیوں ‘ناریل ششم کیکر ‘تاڑی سیندھی کی جھاڑیوں اور ٹیلیفون کے تاروں پر گھونسلہ بناتی ہے ۔ کیڑے مکوڑے اور گھاس پھوس کھا کر زندہ رہنے والی اس چڑیا کو سماجی پرندہ بھی کہا جاتا ہے اس کے گھونسلہ درخت سے زمین کی جانب لٹکتا رہتا ہے اس کا گول حصہ رہائشی علاقہ ہے اس کے نیچے کی جانب سوراخ ہوتا ہے جس میں سے چڑیا اندر داخل ہوتی ہے ۔ بیا کی چونچ ‘ مشین کی سوئی کی طرح چھوٹی اور تیز ہوتی ہے اس کی مدد سے یہ خوبصورت گھونسلہ بناتی ہے ۔ بئے کی...

سانپ کے بارے میں غلط فہمیاں

تصویر
  * سانپ کے بارے میں غلط فہمیاں اور ضعف الاعتقاد جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں * سانپ ، ماسوائے انٹارکٹک دنیا کے سبھی براعظموں میں عام ملنے والا خزندہ (Reptile ) ہے (البتہ گرین لینڈ، آئرلینڈ اور نیوزی لینڈ میں سانپ نہیں پائے جاتے ) جس کی اب تک 3000 کے قریب اقسام کو دریافت کیا جاچکا ہے۔ ان تین ہزار میں سے تقریبا 600 اقسام زہریلی ہیں جن میں سے 200 اقسام انسان کے لیے مہلک ثابت ہوسکتی ہیں۔ زمانہ قدیم سے سانپ کے بارے میں پوری دنیا میں مختلف افواہیں، غلط فہمیاں، ضعف الاعتقادی اور لایعنی، سنسنی خیز باتیں مشہور ہیں جن کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں۔ ایسی ہی کچھ باتوں کا ذکر اور رد ہم اس تحریریں کریں گے۔۔۔ ۔ 1- ناگ منکا Snake Stone : افواہ : ناگ منکا ، کوبرا سانپ کے سر سے نکلنے والا ایک سیاہ پتھر ہے جس میں سانپ کے زہر کا علاج پوشیدہ ہے۔ حقیقت : ناگ منکے کا کوئی وجود نہیں ہے۔۔۔۔سپیرے دراصل ایک سیاہ رنگ کا نگینہ ، سانپ کی جلد پر ہلکا سا کٹ لگا کر اس کے اندر ڈال دیتے ہیں۔ پھر کچھ دن بعد مجمع میں لوگوں کے سامنے سانپ کے سر پر کٹ لگا کر یا پہلے والے کٹ کو چاقو سے کھول کر وہ منکا نکال کر دکھا دیتے ہ...

پاکستان کے دس خوبصورت ترین مقامات

تصویر
پاکستان کے دس خوبصورت ترین مقامات   پاکستان ایک خوبصورت ملک ہے اور اس میں موجود قدرت کے کرشموں کی وجہ سے ایک جنت کا نظارا لگتا ہے پاکستان میں کئی ایسے قدرتی خوبصورت مقامات ہیں جو سیا حوں کا دیہان اپنی طرف کھینچتے ہیں ان کی ایک بڑی فہرست میں سے آج ہم دس دلکش اور خوبصورت مقامات کا ذکر کریں گے۔ (Neelum Valley)وادی نیلم نیلم وادی آزاد کشمیر میں واقع ہے جو اپنی دلکش ہریالی،جھیلوں اور چشموں کی وجہ سے سیا حوں کی توجہ کا مرکز رہتی ہے،یہاں گھنے ہرے جنگلات اور پہاڑ ہیں جو اس جگہ کی خوبصورتی کو مزید اجاگر کر دیتے ہیں۔ (Hunza Valley)وادی ہنزہ ہنزہ وادی گھومنے پھرنے کے لحاظ سے ایک دلچسپ مقام ہے یہ گلگت بلتستان سے ملحقہ علاقے میں واقع ہے اس وادی میں تین ریجنز ہیں،اپر ہنزہ،سینٹر ہنزہ اور لوور ہنزہ۔بنیادی طور پر یہ ایک پہاڑوں کی وادی ہے یہاں کئی ایسی خاص چیزیں ہیں جو دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں جیسے راکاپوشی بیس کیمپ،دیران بیس کیمپ ناگر وادی اورعطا باد جھیل۔ (Swat Valley) وادی سوات سوات کی وادی بھی پاکستان میں ایک بہت ہی خوبصورت جگہ ہے اس کو اپنی خوبصورتی کی بناء پر پاکستان کامنی سوئٹزرلینڈ بھ...

زمین کے بارے کچھ ایسی معلومات جس سے ہم نا واقف ہیں

تصویر
 زمین کے بارے کچھ ایسی معلومات جس سے ہم نا واقف ہیں اربوں سال پرانا سیارہ زمین زندگی کی معاونت اور بقا کی علامت ہے۔ تاہم دھیرے دھیرے زمین جیسے زندگی سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ آئیے اپنے اس سیارے سے ملتے ہیں۔ آگ کے گولے سے اپنے سفر کا آغاز کرنے والا سیارہ زمین کروڑوں برسوں سے زندگی کی معاونت کا ضامن ہے۔ اربوں انواع کی مخلوقات اس زمین سے اپنی بقا جوڑے ہوئے ہیں جب کہ یہ سیارہ خود بھی اربوں سال پرانا ہے، مگر ماحولیاتی تبدیلیوں اور تیزی سے وقوع پذیر ہوتے ردوبدل سے واضح ہے کہ زمین زندگی کی بقا کی ضمانت واپس بھی لے سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اپنے اس سیارے کو ٹھیک سے جانا جائے۔ آئیے سیارہ زمین سے متعلق کچھ دلچسپ باتیں جانتے ہیں۔ سیارہ زہرہ کے دوہرے فلائی بائی کی تیاری زمین کے چاند اور مریخ کے بعد خلائی تسخیر میں ناسا کا اگلا ہدف زہرہ زمین، نظام شمسی میں ہمارا گھر ہمارا سیارہ زمین نظام شمسی کا تیسرا سیارہ ہے۔ گو کہ سائنس دان ایک طویل عرصے سے کائنات کے دیگر مقامات پر زندگی کے سراغ کی کوشش میں ہیں، تاہم اب تک کی انسانی معلومات کے مطابق زمین وہ واحد مقام ہے، جہاں زندگی کی اربوں انواع موجود ہیں۔ ن...

ایٹم بم کا تفصیلی تعارف | جوہری ہتہیار

تصویر
 ایٹم بم کا تفصیلی تعارف ایٹم بم خوف اور دہشت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔اسکا نام سنتے ہی انسان کے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ جب یہ پھٹتا(explode) ہے تو ہر طرف تباہی و بربادی مچا دیتا ہے۔آج تک جتنی بھی جنگیں ہوٸ ہیں ایٹم بم صرف دو مرتبہ ہی استعمال کیا گیا ہے۔یہ دو ایٹم بم امریکہ نے 1945 میں  جاپان پر گراۓ تھے۔اس کی خوفناک تباہی سے اڑھاٸ لاکھ سے بھی زیادہ جاپانی باشندے مر گۓ۔   ایٹم بم کو جنگ عظیم دوم(1945-1939) کے دوران ایجاد کیا گیا۔اصل میں ہوتا یہ ہے کہ امریکہ کو یہ ڈر تھا کہ جرمنی ایٹم بم بنانے کے منصوبہ پر کام کررہا ہے جس کی وجہ سے امریکہ نے ایٹم بم پر تحقیق کرنا شروع کی اور پانچ سال سے بھی کم عرصہ میں اسے ایجاد کر ڈالا۔ جس امریکی ساٸنسدان نے اسے ایجاد کیا،اس کا نام رابرٹ اوپن ہاٸمر تھا۔ آپ میں سے اکثر لوگوں نے یورینیم کا نام تو ضرور سنا ہوگا۔یہ دراصل لوہے کی طرح ایک دھات ہے جسے زمین سے نکالا جاتا ہے تاہم یہ لوہے سے بھاری ہوتی ہے۔اب ایسا نہیں ہے کہ زمین کھودی اور نیچے خالص یورینیم پڑی ہو۔بلکہ یہ زمین میں موجود مخصوص پتھروں میں پاٸ جاتی ہے۔اسکا ایک مشہور پتھر کا نام پچ بلینڈ...

ہوا کے بارے میں دلچسپ معلوماتی تحریر | Interesting informative article about air

تصویر
  ہوا کے بارے میں دلچسپ معلوماتی تحریر *ہوا کے بارے میں دلچسپ معلوماتی تحریر* ہوا میں 21 فیصد آکسیجن اور 78 فیصد ناٸیٹروجن گیسیں پاٸ جاتی ہے جو ہوا کا تقریباً 99 فیصد بناتی ہیں۔ہوا میں موجود آکسیجن گیس زندگی کی بقا کے لیے نہایت ضروری ہے۔ہم پانی اور خوراک کے بغیر کٸ دنوں تک زندہ رہ سکتے ہیں مگر آکسیجن کی غیر موجودگی میں ہم پانچ منٹ تک بھی زندہ نہیں رہ سکتے۔ ہوا میں موجود آکسیجن نہ صرف زندہ رہنے کے لیے ضروری ہے بلکہ چیزوں جیسے لکڑی،کوٸلہ،ڈیزل،پیٹرول اور قدرتی گیس یعنی میتھین کے جلنے کے عمل یعنی کمبسشن کے لیے بھی ضروری ہے۔راکٹس میں عموماً ہاٸیڈروجن گیس(ماٸع حالت میں) کو بطور فیول استعمال کیا جاتا ہے یعنی اسے جلایا جاتا ہے۔چونکہ ہاٸیڈروجن کو جلنے کے لیے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے اور خلا میں آکسیجن نہیں ہوتی یہی وجہ ہے کہ خلا میں جو راکٹ بھیجے جاتے ہیں ان میں اس گیس کو ماٸع حالت میں راکٹس میں ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ ہمارے اردگرد موجود ہوا ایسا میڈیم ہے جس کی بدولت ہم ایک دوسرے سے بات چیت کرسکتے ہیں۔آپ خلا میں ایک دوسرے سے بات چیت نہیں کرسکتے کیونکہ وہاں ہوا میں موجود نہیں ہے۔ روزانہ خلا سے کٸ ...

نظر کی کمزوری کی وجوہات اور علاج

تصویر
*نظر کی کمزوری کی وجوہات اور علاج*    نظر کی کمزوری کے بہت سے اسباب ہیں جو بینائی کی خرابی اور مختلف بیماریاں کا باعث بن سکتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں نظر کی کمزوری کی عام وجوہات اور اس کا علاج۔  *نظر کی کمزوری کی وجوہات*  :نظر کی کمزوری کی بہت سی وجوہات ہیں۔ یہاں چند اہم وجوہات کی وضاحت کی گئی ہے  ۔1 *بہت زیادہ اسکرین ٹائم سے نظر کمزور ہوسکتی ہے*  کمپیوٹر پر لمبے وقت تک کام کرنا یا موبائل فون کا زیادہ استعمال آنکھوں کی خشکی، دھندلا پن اور صحت کے دیگر خدشات کا باعث بن سکتا ہے۔ کمپیوٹر کی آنکھوں کے تناؤ کا مقابلہ ڈیجیٹل اسکرین پروٹیکشن شیشوں سے کیا جا سکتا ہے لیکن آپ کو اپنے گھنٹوں کے اسکرین ٹائم کی نگرانی بھی کرنی چاہیے۔ اسکرین سے دور دیکھنے کے لیے ہر بیس منٹ پر باقاعدہ وقفه کریں فاصلے پر موجود کسی چیز کا مشاہدہ کریں، اور اپنی آنکھوں کو کچھ دیر کے لیے آرام دیں۔ اپنی آنکھوں کو آرام دینے کے لیے تقریبا دس بار آہستہ سے پلکیں بھی جھپکائیں۔  ۔2 *نیند کی کمی بھی نظر کو کمزور کرتی ہے*  جب کسی شخص کو ہر رات چھ سے آٹھ گھنٹے سے کم کی نیند ملے تو آنکھوں کی تھکاوٹ...

کچھ مغربی سائنسدانوں اور مفکرین کا ذکر ہے جب انہیں روایات کے خلاف خیالات پیش کرنے پر شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور کچھ کو سزا کے طور پر زندہ جلا دیاگیا

  کچھ مغربی سائنسدانوں اور مفکرین کا ذکر ہے جب انہیں روایات کے خلاف خیالات پیش کرنے پر شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور کچھ کو سزا کے طور پر زندہ جلا دیاگیا   پوری تاریخ میں ایسی متعدد مثالیں موجود ہیں جب مغربی سائنس دانوں اور مفکرین کو مروجہ روایات اور عقائد سے متصادم نظریات پیش کرنے پر شدید مخالفت اور یہاں تک کہ ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں سے کچھ افراد کو ان کے اختلافی خیالات کی سزا کے طور پر زندہ جلانے سمیت انتہائی اقدامات کا نشانہ بنایا گیا۔ ذیل میں چند قابل ذکر مقدمات کی بحث ہے۔ جیورڈانو برونو (1548-1600): Giordano Bruno، ایک اطالوی فلسفی اور ریاضی دان کو اپنے کائناتی اور مذہبی نظریات کے لیے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ اس نے کائنات کے روایتی جیو سینٹرک ماڈل کو چیلنج کرتے ہوئے متعدد آباد دنیاوں کے ساتھ لامحدود کائنات کا خیال پیش کیا۔ برونو نے بھی بت پرستانہ عقائد کا حامل تھا، اس بات پر زور دیا کہ خدا ہر چیز میں موجود ہے۔ یہ خیالات کیتھولک کلیسیا کے عقائد سے متصادم تھے، اور اس پر ایک بدعتی کا لیبل لگا دیا گیا۔ 1600 میں برونو کو روم میں داؤ پر لگا دیا گیا۔ گلیلیو ...

ہوا کی اہمیت

تصویر
 *🌟ہوا کی اہمیت🌟* ہوا میں 21 فیصد آکسیجن اور 78 فیصد ناٸیٹروجن گیسیں پاٸ جاتی ہے جو ہوا کا تقریباً 99 فیصد بناتی ہیں۔ہوا میں موجود آکسیجن گیس زندگی کی بقا کے لیے نہایت ضروری ہے۔ہم پانی اور خوراک کے بغیر کٸ دنوں تک زندہ رہ سکتے ہیں مگر آکسیجن کی غیر موجودگی میں ہم پانچ منٹ تک بھی زندہ نہیں رہ سکتے۔ ہوا میں موجود آکسیجن نہ صرف زندہ رہنے کے لیے ضروری ہے بلکہ چیزوں جیسے لکڑی،کوٸلہ،ڈیزل،پیٹرول اور قدرتی گیس یعنی میتھین کے جلنے کے عمل یعنی کمبسشن کے لیے بھی ضروری ہے۔راکٹس میں عموماً ہاٸیڈروجن گیس(ماٸع حالت میں) کو بطور فیول استعمال کیا جاتا ہے یعنی اسے جلایا جاتا ہے۔چونکہ ہاٸیڈروجن کو جلنے کے لیے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے اور خلا میں آکسیجن نہیں ہوتی یہی وجہ ہے کہ خلا میں جو راکٹ بھیجے جاتے ہیں ان میں اس گیس کو ماٸع حالت میں راکٹس میں ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ ہمارے اردگرد موجود ہوا ایسا میڈیم ہے جس کی بدولت ہم ایک دوسرے سے بات چیت کرسکتے ہیں۔آپ خلا میں ایک دوسرے سے بات چیت نہیں کرسکتے کیونکہ وہاں ہوا میں موجود نہیں ہے۔ روزانہ خلا سے کٸ بڑے پتھر جنہیں شہاب ثاقب کہا جاتا ہے زمین کے ایٹموسفیر میں...

پٹھوں کا کھنچاؤ کیوں ہوتا ہے؟اس سے چھٹکارا پانے کے آسان طریقے جانیں

تصویر
 پٹھوں کا کھنچاؤ کیوں ہوتا ہے؟اس سے چھٹکارا پانے کے آسان طریقے جانیں پٹھوں کا کھنچاؤ تکلیف دہ سکڑاؤ اور اس کا سخت ہونا ہے۔ وہ عام طور پہ غیر متوقع ہوتا ہے۔ اس کے کھنچاؤ کو روکنے اور اس کی تکلیف کو دورکرنے کے لیے اس کا علاج کرنے کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔مسلز کے سخت ہونے کو اکثر اس کے کھنچاؤ کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، اور یہ اس وقت ہو سکتے ہیں جب ہم سو رہے ہوں، چل رہے ہوں، بیٹھ رہے ہوں یا ورزش کر رہے ہوں۔ کچھ لوگوں میں, یہ دیکھا گیا ہے کہ اس کا کھنچاؤ بہت زیادہ عام ہیں۔ 🪀 *پٹھوں کا کھنچاؤ کیا ہے؟*  یہ کھنچاؤ اس وقت ہوتا ہے جب آپ کے پٹھوں غیر متوقع اور زبردستی بے قابو سکڑ جاتے ہیں اور آرام نہیں کرسکتے ہیں. یہ بہت عام ہیں اور آپ کے کسی بھی جسم کے حصے کو متاثر کرسکتے ہیں۔ وہ ایک گروپ میں اس کا ایک حصہ یا تمام حصے شامل کر سکتے ہیں۔ 🪀پٹھوں کی کھنچاؤ کے لئے سب سے عام سائٹس رانوں، تھائی، پاؤں، ہاتھ، بازو اور پیٹ ہیں.  تھائی میں کھنچاؤ کو  خاص طور پر “چارلی گھوڑے” کہا جاتا ہے۔ ٹانگوں میں کھنچاؤ جو رات کو اس وقت ہوتا ہے جب آپ آرام کرتے ہیں یا سوجاتے ہیں اسے “رات کی ٹا...