: کیا میلاد منانا بدعت ہے؟؟ | ولادت 12 ربیع الاول یا وصال؟ | 📜کیا صحابہ کرام رضی اللّٰه عنھم اجمعین نے حضور ﷺ کا میلاد منایا؟ | 🔹صحابہ کرام رضی اللّٰه عنھم اجمعین حضور صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم کے میلاد کی محفلیں منعقد کرتے تھے۔

 *🌹ربیع الاوّل شریف کے حوالے سے چند اہم سوالات اور ان کے جوابات🌹*


     


  


📜 کیا میلاد منانا بعت ہے؟؟


📝 جواب :شریعتِ مطہرہ کا یہ اصول یاد رکھیں کہ کسی بھی کام کے جائز و ناجائز ہونے کا دارومدار اس بات پر نہیں کہ وه کام حضورِ اکرم صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم یا صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان نے کیا یا نہیں بلکہ دارومدار اس بات پر ہے کہ اس کام سے اللّٰه عزوجل اور اس کے محبوب صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم نے منع فرمایا ہے یا نہیں۔


🔸پہلی بات یہ کہ منکرینِ میلاد اس حدیثِ پاک کو اپنی لاعلمی اور جہالت کی بنا پر بغیر سوچے سمجھے مسلمانوں پر فِٹ کرتے ہیں اور اُنہیں جہنمی ہونے کے فتوے دیتے ہیں معاذ اللّٰه


وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ

(سنن  النسائی : 1579)

اور ہر بدعت(دین میں نیا کام) گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جائے گی۔

اس لیے کہتے ہیں کہ میلاد منانا دین میں نیا کام ہے اور یہ گمراہی ہے۔ معاذ اللّٰه


🔹ہم کہتے ہیں کہ اگر بدعت کی جو تعریف تم لوگ کرتے ہو وہ مان لی جائے کہ دین میں رائج ہر نیا کام گمراہی ہے تو پھر اس تعریف کے مطابق جو جائز کام دین میں رائج ہیں. اور چودہ صدیوں سے مسلمان ان کو اپناتے چلے آ رہے ہیں وه سارے ہی ناجائز و حرام ہوں گے حالانکہ ایسی بات شریعت میں نہیں ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں علماء اہلسنت نے واضح طور پر بدعت کی دو اقسام بیان فرمائی ہیں 


1️⃣بدعت حسنہ 

2️⃣بدعت سیئہ


*"بدعتِ حسنہ"

* سے مراد ہر وه نیا کام جو دین میں رائج ہو اور اس کے لئے شریعت میں کوئی ممانعت نہ آئی ہو۔


*"بدعتِ سیئہ"* سے مراد ہر وه نیا کام جو دین میں رائج ہو مگر اس کے لئے شریعت میں کوئی ممانعت آئی ہو۔

(قرآن و حدیث سے ان دونوں اقسام پر بے شمار مثالیں موجود ہیں)


🔸دوسری بات کہ ہم کہتے ہیں اگر منکرینِ میلاد کا بیان کردہ اصول لے لیا جائے کہ دین میں ہر نیا کام بدعت اور گمراہی ہے تو پھر موجودہ دور میں بہت سارے دین میں رائج کام جیسا کہ

🔹مسجد کا مینار و محراب بنانا۔
🔹كتابی شکل میں قرآنِ پاک۔
🔹قرآنِ پاک پر لگائے گئے اعراب۔
🔹30 سپاروں کی صورت میں قرآنِ پاک کی ترتیب۔
احادیثِ مبارکہ کو دی گئی کتابی شکل جیسے (بخاری و مسلم شریف وغیرہ)
🔹موجودہ سہولیات کے ساتھ کیا جانے والا حج و عمرہ۔
🔹ہر سال خانہ کعبہ پر لاکھوں روپے کا چڑھایا جانے والا غلاف .
🔹غلافِ کعبہ پر قرآنی آیات کا لکھنا وغیرہ۔


یہ سب کام تو وہ ہیں کہ نہ تو رسولِ پاک صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانۂ اقدس میں تھے اور نہ ہی صحابہ کرام رضی اللّٰه عنہم اجمعین کے زمانہ میں اور نہ تو ان کاموں کے کرنے کا حکم رسولِ پاک صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا اور نہ ہی صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان نے فرمایا تو یہ سب کام جائز کیوں؟

یہاں کیوں بدعت اور گمراہی کے فتوے نہیں لگاتے؟


🔸تیسری بات کہ اپنے آقا و مولا حضور صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم کا ميلاد شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے منانے والے مسلمانوں پر تو ناجائز و بدعت اور حرام کے فتوے فوراً لگتے ہیں کیا ان کانفرنسوں اور جلسوں وغیرہ کے کرنے پر کوئی فتویٰ یاد نہیں آتا؟


🔹سالانہ سیرتِ نبوی کانفرنس کے جلسے
🔹سالانہ جشن بخاری کے جلسے 
🔹سالانہ یومِ صحابہ و اہل بیت کانفرنسز
🔹سالانہ حُسنِ قرات کانفرنسز
🔹سالانہ اہلِ حدیث کانفرنسز
🔹سالانہ رائیونڈ کا اجتماع


کیا یہ کانفرنسز اور سالانہ جلسے حضور صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانۂ اقدس میں یا صحابہ کرام رضی اللّٰه عنہم اجمعین کے مبارک دور میں تھے؟ 

اور ان کے منعقد کرنے کا حکم حضورِ اکرم صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا؟ 

کیا صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان نے فرمایا یا ان کانفرنسوں اور جلسوں کو کبھی ایک بار ہی منعقد کیا ہو؟

آخر یہاں کیوں ناجائز و حرام اور بدعت کے فتوے نہیں لگتے؟

اللّٰه تبارک و تعالٰی گمراہ لوگوں کو عقلِ سلیم عطا فرمائے 


🔸اللّٰه تبارک و تعالیٰ ہمیں حضور صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم کی سچی پَکّی محبت عطا فرمائے اور حق سمجھ کر اس پر عمل کرنے اور اپنی رضا کے لئے دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔حصہ *


📜  بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ حضور صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم کی ولادت  12 ربیع الاول کو ہوئی چلو ہم مان لیتے ہیں لیکن وصال بھی تو 12 ربیع اول کو ہوا۔ تو تم لوگ خوشی کرتے ہو حضور صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم کے وصال کا غم کیوں نہیں مناتے؟


📝 جواب :🔹پہلی بات یہ کہ تاریخی واقعات میں اکثر مؤرخین کی مختلف رائیں ہوتی ہیں جہاں پر زیادہ رائیں ہوں یعنی جمہور علماء کرام کا جس تاریخ پر اتفاق ہو اس قول کو لیا جاتا ہے حضور صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم کی تاریخِ ولادت کے متعلق بھی مؤرخین کی مختلف رائیں ہیں لیکن جمہور علمائے کرام کا قول یہ ہی ہے کہ آپ صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم 12 ربیع الاول کو ہی پیدا ہوئے۔

(فتاویٰ رضویہ ، جلد : 26 ، ص 411،412)


🔹دوسری بات کہ ہم مان لیتے ہیں کہ حضور علیہ السلام کا وصالِ اقدس 12 ربیع الاول کو ہی ہوا لیکن جن منکرینِ میلاد کو حضور صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم کی ولادت کے موقع پر سوگ منانا یاد آجاتا ہے یہی لوگ محرم کے مہینے میں امامِ حسین رضی اللّٰه عنہ کی شہادت پہ سوگ منانے والوں کے خلاف فتوے دیتے ہیں کہ تین دن سے زیادہ سوگ منانا حرام ہے۔


سوال ہے کہ محرم الحرام میں تو یہ اصول یاد آتا ہے لیکن آقا کریم صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم کے وصالِ اقدس کے دن پر یہ اصول کیوں نہیں یاد رہتا؟۔ 


🔹تیسری بات کہ حدیثِ مبارکہ میں فرمایا گیا کہ جمعہ کا دن مسلمانوں کے لیے عید کا دن ہے کہ اِسی دن حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی اور اِسی دن آپ کا وصال ہوا 

(سنن ابو داؤد : 1047 )

 

اب حضور علیہ السلام تو حضرت آدم علیہ السلام کے وصال کے دن کو عید کا دن قرار دیں لیکن منکرینِ میلاد حضور علیہ السلام کے ہی وصالِ اقدس کے دن پر مسلمانوں کو غم منانے کے فتوے دیں آخر ایسا کیوں؟


🔹چوتھی بات کہ اگر وفات کا غم ہی منانا ہے تو پورے سال میں تقریباً 52 بار حضرت آدم علیہ السلام کے وصال کا دن یعنی جمعے کا دن آتا ہے لیکن منکرینِ میلاد جمعے کے دن شادیاں بھی کرتے ہیں مختلف اعتبار سے خوشی کے پروگرامز بھی کرتے ہیں مگر اب انہیں وفات کا غم کیوں نہیں یاد آتا؟؟





📜کیا صحابہ کرام رضی اللّٰه عنھم اجمعین نے حضور ﷺ کا میلاد منایا؟؟


📝 جواب : جی ہاں! صحابہ کرام رضی اللّٰه عنھم اجمعین نے بھی رسولِ پاک ﷺ کا میلاد منایا۔ چند روایت مُلاحظہ فرمائیں


🔹حضور صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم کی ولادتِ باسعادت کا ذکرِ خیر کرنے والوں پر اللّٰه عزوجل فرشتوں کے سامنے فخر (جیسا اس رب العزت کی شان کے لائق ہے) فرماتا ہے۔


1️⃣ آقا کریم صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم ایک دفعہ صحابہ کرام رضی اللّٰه عنھم اجمعین کی ایک محفل میں تشریف لائے اور فرمایا تم یہاں کس لیے بیٹھے ہو؟؟ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی یا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم! اس لیے کہ جو ہمیں اللّٰه تعالٰی نے دینِ اسلام کی دولت عطا فرمائی *اور آپ کو بھیج کر ہم پر احسان فرمایا اس پر اُس(رب عزوجل)کا ذکر و شکر ادا کریں* اس پر آپ صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کیا تم اللّٰه عزوجل کو گواہ بنا کر کہتے ہو کہ تم یہاں اِسی مقصد کے لیے بیٹھے ہو؟ انہوں نے عرض کی اللّٰه عزوجل کی قسم! ہم اس کے سوا اور کسی اور مقصد کے لئے یہاں نہیں بیٹھے۔ آپ صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تم پر کسی تہمت کی وجہ سے تم سے قسم نہیں لی۔ *میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے تھے اور مجھے خبر دی کہ اللّٰه تعالیٰ فرشتوں(کے حلقہ) میں تم پر فخر فرما رہا ہے۔*

(صحیح مسلم : 2701)


🔹حضرت حسان بن ثابت رضی اﷲ عنہ قصیدہ(نعت) پڑھ کر حضور صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم کا ذکرِ خیر کیا کرتے تھے۔


2️⃣ آقا کریم صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم خود حضرت حسان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے لئے منبر رکھا کرتے تھے تاکہ وہ اس پر کھڑے ہوکر حضور صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم کی تعریف میں فخریہ اشعار پڑھیں۔ حضور صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم حضرت حسان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے لئے فرماتے۔ ﷲ تعالیٰ روح القدس (حضرت جبرائیل علیہ السلام) کے ذریعہ حسان کی مدد فرمائے (بخاری شریف : 3212)


🔹صحابہ کرام رضی اللّٰه عنھم اجمعین حضور صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم کا ذکرِ خیر ایک دوسرے کو سناتے تھے۔


3️⃣ حضرت عطا بن یسار رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبد ﷲ بن عمرو بن عاص رضی ﷲ عنہم سے ملاقات کی۔ میں نے عرض کیا کہ مجھے آقا کریم صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم کی وہ نعت سنائیں جو تورات میں مذکور ہے تو انہوں نے پڑھ کر سنائی۔

(مشکوٰۃ المصابیح : 5752)

(بخاری شریف : 2125)


🔹صحابہ کرام رضی اللّٰه عنھم اجمعین حضور صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم کے میلاد کی محفلیں منعقد کرتے تھے۔ 


4️⃣ حضرت ابودرداء رضی اللّٰه عنہ نبی کریم صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ حضرت عامر انصاری رضی اللّٰه عنہ کے گھر تشریف لائے اور عامر انصاری رضی اللّٰه عنہ آپ صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم کی ولادتِ باسعادت کے واقعات اپنے بیٹوں اور رشتہ داروں کو سنا رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ یہی وہ دن ہے جس دن حضور صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم(دنیا میں ظاہری طور پر) جلوہ گر ہوئے۔ پس حضور صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ بے شک اللّٰه عزوجل نے تمہارے لئے رحمت کے دروازے کھول دیے اور تمام فرشتے تمہاری مغفرت کی دعائیں مانگ رہے ہیں اور جو شخص تمہارے جیسا کام کرے گا (یعنی محفل میلاد منعقد کرے گا)وہ تمھاری طرح نجات پائے گا

(الدرالمنظم فی بیان الحكم مولد النبی ،ص 279 ، 280)


 : کیا فرشتوں نے بھی حضور صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم کا میلاد منایا؟؟


📝 جواب : جی ہاں! فرشتوں نے بھی اللّٰه تبارک و تعالیٰ کے حکم سے حضور صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم کا میلاد منایا۔ چند روایت مُلاحظہ فرمائیں


🔹عرش پر بھی حضرتِ سیدہ ، طیبہ ، طاہرہ ، عابدہ ، زاہدہ ، پارسا آمنہ رضی اللّٰه عنہا کے لال ، محبوبِ خدا صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم کی ولادتِ باسعادت پر خوشیوں کا اظہار ہوا۔


1️⃣ حضرت عمرو بن قتیبہ رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اپنے والد سے سنا جو بہت بڑے عالم تھے، فرماتے ہیں کہ حضرت آمنہ رضی اللّٰه تعالیٰ عنہا کے ہاں ولادتِ باسعادت کا وقت قریب آیا تو اللّٰه تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کہ تمام آسمانوں اور جنتوں کے دروازے کھول دو۔ اس روز سورج کو نورِ عظیم کا لباس پہنایا گیا اور اللّٰه تعالیٰ نے دنیا بھر کی عورتوں کے لئے یہ مقدر کردیا کہ وہ حضور اکرم صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم کی برکت سے لڑکے جنیں(یعنی حضور صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم کی ولادتِ باسعادت کے صدقے تمام عورتوں کو بیٹے عطا ہوئے)۔

(الخصائص الکبریٰ ، ج1، ص 103)


🔹سَرورِ کونین ، سید الثقلین ، محبوبِ رب المشرقین ، امام القبلتین ، جد الحسن و الحسین صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم کی ولادتِ باسعادت پر فرشتوں نے عرش پر جھنڈے لگائے


2️⃣ حضرت سیدہ آمنہ رضی اللّٰه تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے دیکھا کہ (حضور صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم کی ولادت کے وقت) تین جھنڈے نصب کئے گئے۔ ایک مشرق میں ، دوسرا مغرب میں ، تیسرا کعبے کی چھت پر اور حضور صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم کی ولادت ہوگئی۔

(الخصائص الکبریٰ، ج : 1 ، ص : 105)


3️⃣ حضرت علامہ امام ابنِ جوزی رحمۃ اللّٰه علیہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم کے وجودِ مسعود کے ظاہر ہوتے ہی بہت سے چشمے پھوٹ کر بہنے لگے۔ ایوانِ کسریٰ پھٹ گیا۔ اس کے محل کے پتھر ریزہ ریزہ ہو کر گِر پڑے۔ حضور پُر نور صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم کے میلادِ مبارکہ سے ساتوں آسمانوں کے فرشتوں نے نہ صرف ہمیں بشارت و خوشخبری سنائی بلکہ آپ صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم کے ظہور سے باہم مبارک باد بھی دی۔

(مولد العروس ، ص 20 ، 19)


4️⃣ صاحبِ معارج النبوت علامہ معین کاشفی رحمۃ اللّٰه علیہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم کی ولادتِ باسعادت کی رات ملائکہ نے جشن منایا۔ جبرئیلِ امین علیہ السلام نے فرش پر آکر بامِ کعبہ پر ہلالی پرچم لہرایا اور خطۂ ارض کو بشارت دی کہ آج رات نورِ محمدی صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم صلبِ پدر سے رحمِ مادر میں منتقل ہوگیا ہے 

(معارج النبوت ، ج 1 ، ص 743 )


 


*مولود النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ میں راجح قول کیا ہے؟*
*اقا علیہ السلام کی وصال پر غم کیوں نہیں منایاجاتا؟*


۔  بعض لوگ کہتے ہیں کہ 12 ربیع الاول کے دن نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی پیدائش نہیں ہوئی، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اس دن ہوئی ہے، تو اس دن خوشی نہیں، بلکہ غم منانا چاہیے کہ اس دن تمام صحابہ کرام اور نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اہل بیت سب رنجیدہ تھے اور ہم خوشی مناتے ہیں۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں ارشاد فرمائیں کہ

 (1) آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی تاریخ ولادت کیا ہے؟ 

(2) اور اس دن خوشی منانا جائز ہے یا 

نہیں؟


/ بعض اقوال سے یہ ثابت ہے کہ وفات آقا علیہ السلام بارہ ربیع النور کو ہوئی اسی طرح مولود النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بابت اختلاف ہے بارہ ربیع النور یا کوئی اور تاریخ مگر بارہ ربیع النور راجح قول ہے ۔

بارہ ربیع النور کو خوشی منانا جائز ہے 

اب یہ اعتراض کہ بارہ ربیع الاول نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یوم ولادت ہے اور بعض اقوال کے مطابق آپ کا یوم وفات بھی یہی ہے۔ تم اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت پر خوشی مناتے ہو۔ اس دن آپ کی وفات پر سوگ کیوں نہیں مناتے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ شریعت نے ہمیں نعمت پر خوشی منانے  اس پر  اظہار اور بیان کرنے کا تو حکم دیا ہے اور کسی نعمت کے چلے جانے پر سوگ منانے سے منع کیا ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ ہم غم اور سوگ کیوں کریں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس طرح پہلے زندہ تھے اب بھی زندہ ہیں۔ پہلے دارالتکلیف میں زندہ تھے اب دارالجزاء اور جنت میں زندہ ہیں آپ پر امت کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں نیک اعمال پر آپ اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہیں اور برے اعمال پر آپ امت کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ آپ زائرین کے سلام کا جواب دیتے ہیں۔ طالبین شفاعت کے لیے شفاعت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نجلیات کے مطالعہ اور مشاہدہ میں مستغرق رہتے ہیں اور آپ کے مراتب اور درجات میں ہر آن اور ہر لحظہ ترقی ہوتی رہتی ہے۔ اس میں غم کرنے کی کون سی وجہ ہے ؟ جبکہ آپ نے خود یہ فرمایا ہے میری حیات بھی تمہارے لیے خیر ہے اور میری ممات بھی تمہارے لیے خیر ہے (الوفاء باحوال المصطفی ص ١١٨بحوالہ تبیان القران سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 3)


مجتہد فی السائل اعلی حضرت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں 

جشن ولادت بارہ ربیع الاوّل کو منایا جائے۔

فتاویٰ رضویہ ج 26 ص 411 پر ہے اس میں اقوال بہت مختلف ہیں دو، آٹھ، دس، بارہ، سترہ، اٹھارہ، بائیس، سات قول ہیں مگر اشہر و اکثر و مأخوذ و معتبر بارہویں ہے۔  مکۂ معظّمہ میں ہمیشہ اسی تاریخ کو مکانِ مولِد اقدس کی زیارت کرتے ہیں کما فی المواھب والمدارج اورخاص اس مکانِ جنّت نِشان میں اسی تاریخ میں مجلسِ میلادِ مقدّس ہوتی ہے۔

 فتاویٰ رضویہ جلد 26 ص 427 پر ہے شَرْعِ مُطہّر میں مشہور بینَ الجمہور ہونے کے لئے وقعت عظیم ہےاور مشہور عندَ الجمہور 12ربیع ُالاوّل ہے اور علِم ھَیْئَت و زیجات کے حساب سے روز ولادت شریف 8 ربیعُ الاوّل ہے

مزید فرماتے ہیں تعامل مسلمین حرمین شریفین و مصر وشام بلاد اسلام و ہندوستان میں بارہ ہی پر ہے اس پر عمل کیا جائے۔الخ ( فتاویٰ رضویہ ج 26 ص427 رضا فاؤنڈیشن ، لاھور )


٢/ ماہ ربیع الاول میں نفلی روزہ رکھیں خیرات و صدقات کریں بارہ ربیع الاول کو عید میلاد پر محفل میلاد کا انعقاد کریں کھانا بنواکر فقرا میں تقسیم کریں شرعی اصول کے ساتھ جلوس بھی نکال سکتے ہیں۔


٢/ آقا علیہ السلام اپنی حیات کے ساتھ قبر انور میں جلوہ افروز ہیں بس ھماری نظروں سے اوجھل ہیں اس لئے ان کے جانے پر ہم غم نہیں مناتے اقا علیہ السلام کی ہر گھڑی پچھلی گھڑی سے بہتر ہے ۔

البتہ آقا علیہ السلام کی وصال پر صحابہ کرام غم زدہ ہوئے چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصال پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس وجہ سے غمزدہ تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں جہانوں کے لئے سردار ہیں، آقا و مولی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدائی پر غمزدہ تھے اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظاہری طور پر پردہ فرما چکے ہیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک عالم سے دوسرے عالم میں منتقل ہو گئے ہیں جسمانی طور پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس طرح حیات مبارکہ میں صحابہ کرام کے ساتھ گفتگو فرمایا کرتے تھے صحابہ کرام ہر وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کرتے تھے ہر وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام کے درمیان موجود ہوتے تھے ظاہری پردہ فرمانے کے بعد صحابہ کرام ان سب نوازشات اور رحمتوں بھری ساعتوں سے محروم ہو گئے تھے اس لئے صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جسمانی جدائی پر غمزدہ تھے اگرچہ

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات برزخ پہلے سے کئی زیادہ قوی ہے۔  صحابہ کرام اس وجہ سے غمزدہ تھے کہ اب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسری دنیا میں چلے گئے تو یہ ساری باتیں ایسی تھی کہ صحابہ کرام غمزدہ تھے ورنہ صحابہ کو بھی پتہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  ظاہری طور پر پردہ فرما گئے ہیں تو کیا صحابہ کرام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جسمانی جدائی پر خوشیاں مناتے؟ اس لئے ہم غم نہیں بلکہ خوشیاں مناتے ہیں۔


والله ورسوله أعلم بالصواب 


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

پاکستان کے دس خوبصورت ترین مقامات

عرب کی پرانی ثقافت پر آج عمل کیوں؟

پاکستان میں آرمی ایکٹ کے تحت سویلینز کا ٹرائل کیسے ہوتا ہے؟|How is the trial of civilians under the Army Act in Pakistan?