پاکستانیوں کا آنے والا مستقبل | پاکستان میں زندگی جینا
اگر آپ ان باتوں سے اتفاق کریں تو پاکستان میں زندگی جینا آسان ہو سکتا ہے
اگر آپ افورڈ نہیں کر سکتے تو دو حل ہیں۔ سہولیات ترک کر دو یا پھر کمائی کا نیا ذریعہ ڈھونڈو۔
کمانے کو ساری دنیا سکھانے پہ تلی ہوئی ہے، میں صرف ترک کرنے کے بارے میں بتا سکتا ہوں۔
پیسے ہیں تو سائیکل خرید لو، نہیں ہیں تو لنڈے سے ایک جوگر لو اور بسوں کے عادی بنو۔
بسوں کے پیسے نہیں تو پھر طویل فاصلے طے کرنے کی بجائے گھر کے آس پاس روزگار ڈھونڈو۔
استری کرنے کی بجائے گیلے کپڑے ہینگر پہ سکھا کر پہن لو۔
باہر انڈہ شامی کھانا ہے یا گھر کا سالن؟ اس وقت گھر کا کھانا مہنگا پڑ رہا ہے۔ سنگل ہو تو اچار یا دہی کے ساتھ روٹی کھا لو اور کام نکالو۔ کچی سبزیاں کھاؤ یا گیس آتی ہے تو ابال لو۔ گھی تیل کا خرچ بچے گا اور دواؤں پر بھی پیسے کم نکلیں گے۔
دوست کم کر دو یا اپنے جیسے رکھو۔
سردیوں میں ہیٹر کے متبادل پہ ابھی سے سوچنا شروع کرو، پرانے زمانے کے لوگوں کا سوچو، جیسے وہ رہتے تھے ویسے رہو۔
بال داڑھی خود بنا لیا کرو۔
ڈاکٹر کی بجائے حکمت کی طرف لوٹو۔ جڑی بوٹیوں میں علاج ڈھونڈو۔ ایمرجنسی سے اللہ بچائے، تب کے لیے کچھ نہ کچھ بچا کے رکھو اور تب جو مرضی کرو۔
سگریٹ والے ہو تو بیڑی یا حقے کی شکل دیکھو ۔۔۔ گزارہ چل جاتا ہے۔
سرکاری سکول کالجوں میں بچوں کو بھیجو، زندگی بھر سکھی رہو گے۔
ناشتے میں ڈبل روٹی کے بجائے رات کی روٹی اور دودھ والی چائے کی بجائے کالی چائے یا قہوہ پیو۔
چینی اور کولڈ ڈرنک کا استعمال چھوڑ دو، ضروری ہے تو لگژری آئٹم سمجھو ان کو۔
کولر اے سی اگلے سال تک برداشت سے باہر ہو جائیں گے، یا تو ہر مہینے 'جون جولائی اگست بجلی فنڈ' کے نام سے بچت کرو یا پھر گھر میں چارپائیاں رکھو اور دھوتی کرتا گیلا کر کے پہنتے رہو، چھتوں پہ سونے کا رواج دوبارہ ڈالو۔
مرغیاں رکھ لو دو تین، اپنے گھر جوگے انڈے مل ہی جائیں گے لیکن اس سے آگے ساری کہانی شیخ چلی والی تھی اس پہ مت جانا۔
چھوٹے فریج خریدو، صرف پانی ٹھنڈے کرنے جوگے، بڑے موجود ہیں تو بہرحال بل ان کا بھی آنا ہے۔ ورنہ گھڑے خریدو اور کام چلاؤ۔
شیمپو کم کر کے صابن کی طرف آؤ، لال لائف بوائے فرسٹ کلاس چیز ہے، رنگین اشتہاروں پہ مت جاؤ۔
باقی کوئی آئیڈیا دماغ میں آتا ہے تو نیچے لکھ دو۔ اس پوسٹ کو سنجیدہ لو اور زندگی گزارنے میں اپنے جیسے لوگوں کی مدد کرو🙏
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں