ایک چڑیا اور اس کی انجینئرنگ ۔۔ سبحان اللہ

ایک چڑیا اور اس کی انجینئرنگ ۔۔       سبحان اللہ   
                  





بیّا ننھی سی خوبصورت چڑیا۔ اسے Weaver Bird بھی کہتے ہیں یہ چھوٹی سی چڑیا اپنا خوبصورت گھونسلہ بناتی ہے جسے Retortکہتے ہیں اس کی شکل الٹی بوتل جیسی ہوتی ہے ۔ یہ گھریلو چڑیا کے سائز کے مماثل ہوتی ہے۔ یہ ہندوستان برصغیر‘ افریقہ اور جنوب مغرب ایشیائی ممالک میں بکثرت پائی جاتی ہے ۔ یہ عموما گھاس کے میدانوں ‘زرعی کھیتوں اورپانی کے ذخائر کے قریب کثرت سے دیکھی جاسکتی ہے ۔ بئیا یا بایا چڑیا عام طور پانی سے اوپر لٹکتی درختوں کی ٹہنیوں ‘ناریل ششم کیکر ‘تاڑی سیندھی کی جھاڑیوں اور ٹیلیفون کے تاروں پر گھونسلہ بناتی ہے ۔ کیڑے مکوڑے اور گھاس پھوس کھا کر زندہ رہنے والی اس چڑیا کو سماجی پرندہ بھی کہا جاتا ہے اس کے گھونسلہ درخت سے زمین کی جانب لٹکتا رہتا ہے اس کا گول حصہ رہائشی علاقہ ہے اس کے نیچے کی جانب سوراخ ہوتا ہے جس میں سے چڑیا اندر داخل ہوتی ہے ۔ بیا کی چونچ ‘ مشین کی سوئی کی طرح چھوٹی اور تیز ہوتی ہے اس کی مدد سے یہ خوبصورت گھونسلہ بناتی ہے ۔ بئے کی چڑیا ‘ہمیشہ مشرق کی سمت گھونسلے بناتی ہے اس کی وجہ یہ ہےکہ جنوب مغربی مون سون سے اس کا گھونسلہ محفوظ رہ سکے ۔ عموماً نر چڑیا ہی گھونسلہ بناتی ہے جو 18 دن کے اندر مکمل کرلیتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نر چڑیا مکمل گھونسلہ نہیں بناتی بلکہ مادہ پہلے اس گھونسلہ کا معائنہ کرتی ہے اور دونوں جب ساتھ رہنے پر رضا مند ہوجاتے ہیں تب مادہ بھی گھونسلہ بنانے میں مدد دیتی ہے۔ مادہ ‘اندرونی آرائش کرتی ہے ۔ یہ عموماً 2 تا 4 انڈے دیتی ہے ۔

 نر چڑیا میٹھے سروں میں گانا گاتی ہے اور مادہ چڑیا اس دھن پر لہک لہک کر نر کے ساتھ گھونسلے کو بناتی جاتی ہے۔’’نر‘‘ ایک سے زائد چڑیوں کو متوجہ کرنے کی کوشش کرتا ہے یہ پرندہ حالات کے اعتبار سے مادہ کو رجھانے کے لئے نیا گھونسلہ بنانے کے بجائے کسی پرانے گھونسلے پر توجہہ دیتا ہے اور اس کو نئے انداز سے سجاتا ہے۔اسی لئے ہمیں ایک ہی درخت پر نئے پرانے ، مکمل ادھورے گھونسلے دکھائی دیتے ہیں

بیا چڑیا جو آج کل کراچی اور لاہور میں بڑی تعداد میں پرندوں کی مارکیٹ میں نظر آرہی ہے یہ زیادہ تر جنوبی پنجاب اور سندھ کے ملحقہ علاقوں سے پکڑ کے لائی جاتی ہے، 

آپ سب سے التجا ہے اس چڑیا کو نا خریدیں اور جو لوگ اس کو یہاں کراچی اور لاہور میں اسے آزاد کرتے ہیں یہ کبھی بھی اپنے مطلوبہ مقام پے نہیں پہنچ پاتی اگر اس کو کوئی خرید کے آزاد کرے تو دیہات والی سائیڈ پر چھوڑا کریں شہر میں یہ نہیں رہ سکتیں .پاکستان میں ان کی تعداد کافی کم رہ گئی ہے ابّ ،۔۔۔۔




تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

پاکستان کے دس خوبصورت ترین مقامات

عرب کی پرانی ثقافت پر آج عمل کیوں؟

پاکستان میں آرمی ایکٹ کے تحت سویلینز کا ٹرائل کیسے ہوتا ہے؟|How is the trial of civilians under the Army Act in Pakistan?