ایٹم بم کا تفصیلی تعارف | جوہری ہتہیار
ایٹم بم کا تفصیلی تعارف
ایٹم بم خوف اور دہشت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔اسکا نام سنتے ہی انسان کے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ جب یہ پھٹتا(explode) ہے تو ہر طرف تباہی و بربادی مچا دیتا ہے۔آج تک جتنی بھی جنگیں ہوٸ ہیں ایٹم بم صرف دو مرتبہ ہی استعمال کیا گیا ہے۔یہ دو ایٹم بم امریکہ نے 1945 میں جاپان پر گراۓ تھے۔اس کی خوفناک تباہی سے اڑھاٸ لاکھ سے بھی زیادہ جاپانی باشندے مر گۓ۔
ایٹم بم کو جنگ عظیم دوم(1945-1939) کے دوران ایجاد کیا گیا۔اصل میں ہوتا یہ ہے کہ امریکہ کو یہ ڈر تھا کہ جرمنی ایٹم بم بنانے کے منصوبہ پر کام کررہا ہے جس کی وجہ سے امریکہ نے ایٹم بم پر تحقیق کرنا شروع کی اور پانچ سال سے بھی کم عرصہ میں اسے ایجاد کر ڈالا۔ جس امریکی ساٸنسدان نے اسے ایجاد کیا،اس کا نام رابرٹ اوپن ہاٸمر تھا۔
آپ میں سے اکثر لوگوں نے یورینیم کا نام تو ضرور سنا ہوگا۔یہ دراصل لوہے کی طرح ایک دھات ہے جسے زمین سے نکالا جاتا ہے تاہم یہ لوہے سے بھاری ہوتی ہے۔اب ایسا نہیں ہے کہ زمین کھودی اور نیچے خالص یورینیم پڑی ہو۔بلکہ یہ زمین میں موجود مخصوص پتھروں میں پاٸ جاتی ہے۔اسکا ایک مشہور پتھر کا نام پچ بلینڈ ہے۔اب جیسے ہی یورینیم کے پتھروں کو زمین سے نکالا جاتا ہے تو ان میں موجود یورینیم کو خالص حالت میں لانے کے لیے انہیں فیکٹریوں میں بھیجا جاتا ہے۔پتھروں کو کٸ مراحل میں سے گزارنے کے بعد خالص یورینیم حاصل کی جاتی ہے۔
اب یورینیم کیوں اہم ہے؟اسکا جواب یہ ہے کہ یہی وہ دھات ہے جسے ایٹم بم میں فیول کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ صرف ایک کلوگرام یورینیم کو استعمال کر کے(یعنی اسکی فشن سے) جتنی ہیٹ پیدا ہوتی ہے اتنی ہی ہیٹ پیدا کرنے کے لیے ہمیں 3 ہزار ٹن کوٸلہ جلانے کی ضرورت ہوگی۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا جس طرح کوٸلہ کو جلایا جاتا ہے اسی طرح یورینیم کو بھی جلا کر ہیٹ حاصل کی جاتی ہے؟اسکا جواب ہے نہیں!کوٸلہ کے برعکس یورینیم کے ایٹمز کو توڑا جاتا ہے یعنی نیوکلیر چین ری ایکشن کے نتیجہ میں وہ ہیٹ پیدا ہوتی ہے۔
کاٸنات کی تمام اشیا(Matter)جیسے لکڑی،انسان،حیوان،درخت،پہاڑ،ریت،پانی وغیرہ ایٹمز سے بنی ہوتی ہیں۔ایٹم بہت چھوٹا ذرا ہوتا ہے۔اسکا اندازہ یوں لگاٸیے کہ ریت کے ایک ذرے میں بھی کھربوں ایٹمز موجود ہوتے ہیں۔قدرت میں 92 مختلف طرح کے ایٹمز پاٸے جاتے ہیں۔ایک جیسے ایٹمز مل کر جو چیز بناتے ہیں اسکو ایلیمنٹ کہتے ہیں۔مثال کے طور پر یورینیم ایک ایلیمنٹ ہے کیونکہ یہ ایک جیسے ایٹمز سے مل کر بنا ہے۔
اب اگر آپ کے پاس ایک کلوگرام یورینیم موجود ہو تو اندازہ لگاٸیے کہ اس میں کتنے کھربوں ایٹمز موجود ہوں گے۔ان ایٹمز کو جب توڑا جاتا ہے تو اس کے نتیجہ میں بہت زیادہ مقدار میں ہیٹ اور روشنی کی شکل میں انرجی خارج ہوتی ہے۔اس انرجی کو نیوکلیر انرجی کہتے ہیں۔ایٹم بم میں یورینیم کو استعمال کیا جاتا ہے اور جب اسکے ایٹمز کو توڑا جاتا ہے تو اس کے نتیجہ میں بے پناہ انرجی پیدا ہوتی ہے۔یہ اتنی زیادہ انرجی ہوتی ہے کہ ہر راستے میں آنے والی ہر چیز کو تباہ و برباد کردیتی ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ محض یورینیم کے ایک ایٹم کو توڑ کر اتنی زیادہ انرجی پیدا نہیں ہوتی کہ جس سے پورے شہر کو تباہ کیا جاسکے۔ایٹم بم میں کم ازکم 15 کلو گرام یورینیم(U-235) موجود ہونی چاہیے تبھی ایک ایٹم بم کو ایک شہر میں تباہی لانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔یہ سوال بھی ذہن میں گردش کرتا ہوگا کہ آخرکار یورینیم کے ایٹمز کو توڑنے کے لیے کس چیز کا استعمال کیا جاتا ہے۔اب یوینیم کے ایٹمز کو توڑنے کے لیے ہتھوڑا تو استعمال نہیں کیا جاسکتا۔دراصل یورینیم کے ایٹمز کو توڑنے کے لیے ان پر بہت چھوٹے ذرات جو کہ ایٹم سے بھی چھوٹےہوتے یعنی نیوٹرانز کا استعمال کیا جاتا ہے۔
جب نیوٹرانز یورینم کے ایٹمز سے ٹکراتے ہیں تو یہ یورینیم کے ایٹمز کو دو حصوں میں تقسیم کردیتے ہیں یعنی یورینیم کے ایٹمز کو توڑ دیتے ہیں۔اس عمل کو نیوکلر فشن کہتے ہیں اور اس عمل میں بہت زیادہ مقدار میں انرجی خارج ہوتی ہے۔
یہاں پر ایک بہت ہی اہم بات کرنے لگا ہوں وہ یہ کہ زمین سے نکالے گٸے یورینیم کے پتھر یعنی منرلز کو مختلف طبعی و کیمیاٸ مراحل میں سے گزارنے کے بعد حاصل ہونے والی یورینیم جسے قدرتی یورینیم کہتے ہیں۔اب یہ یورینیم بھی تین حالتوں میں ہوتی ہے جسے یورینیم کے آٸسوٹوپس کہا جاتا ہے۔اس خالص یا قدرتی یورینیم میں یورینیم-235،یورینیم-238 اور یورینیم-234 موجود ہوتی ہے۔یورینیم کی اس حالتوں کو یورینیم کے آٸسوٹوپس کہتے ہیں۔یورینیم-238 میں 146 نیوٹرانز،یورینیم-235 میں 143 نیوٹرانز اور یورینیم-234 میں 142 نیوٹرانز پاۓ جاتے ہیں جبکہ تینوں یورینیم میں پروٹانز اور الیکٹرانز کی تعداد 92 ہوتی ہے۔سو جب یورینیم کے ایٹمز کو توڑ کر بہت زیادہ مقدار میں انرجی خارج ہوتی ہے تو یہاں یورینیم سے مراد یورینیم-235 ہوتی ہے ن کہ یورینیم-238۔
اب قدرتی یورینیم میں سب سے زیادہ مقدار میں یورینیم-238 پاٸ جاتی ہے جس کی مقدار 99.3 فیصد ہوتی ہے۔جبکہ قدرتی یورینیم میں یورینیم-235 بہت ہی کم مقدار میں پاٸ جاتی ہے جسکی مقدار محض 0.7 فیصد ہوتی ہے اور یورینیم-234 نہ ہونے کے برابر۔اب ایسا نہیں ہے کہ یورینیم-235،یورینیم-238، اور یورینیم-234 دکھنے میں ایک دوسرے سے مختلف ہوں گی بلکہ یہ ایک جییسی نظر آتی ہیں اور انکی کیمیاٸ خصوصیات ایک جیسی ہوتی ہیں(اس لیے کیمیاٸ طریقوں سے انہیں خالص یورینیم سے الگ نہیں کیا جاسکتا)۔
یورینیم-238 کا وزن(ماس) یورینیم-235 اور یورینیم-234 سے زیادہ ہوتا ہے۔اور یوینیم-235 کا وزن(ماس) یورینیم-234 سے تھوڑا زیادہ ہوتا ہے۔اسکو یوں سمجھیے کہ اگر ریت کے بہت سارے ذرات ہوں۔اب فرض کریں ریت کے کھربوں ذرات ہیں۔ان میں سے 99.3 فیصد ذرات ایسے ہیں جو تھوڑے زیادہ بھاری ہیں مگر کچھ ذرات ایسے ہیں جو کم بھاری ہیں۔اب ان ذرات کے ماس میں بہت بہت معمولی فرق ہے۔اور یہ دکھنے میں ایک جیسے نظر آتے ہیں۔بالکل قدرتی یورینیم میں موجود یوینیم-238،یورینیم،یورینیم-235 اور یورینیم-234 کے ماس میں بھی بہت معمولی فرق ہوتا ہے۔
لیکن ایٹم بم میں جو یورینیم استعمال کی جاتی ہے اسکا نام یوینیم-235 ہے اور یہ قدرتی یورینیم میں بہت ہی کم مقدار میں پاٸ جاتی ہے۔اگر قدرتی یورینیم یا خالص یورینیم کی مقدار ایک کلوگرام ہو تو اس میں یورینیم-235 کی مقدار محض دس گرام سے بھی کم ہوگی۔لیکن مسٸلہ یہ ہے کہ قدرتی یورینیم میں سے یورینیم 235 الگ کرنا ایک بہت ہی مشکل پراسس ہے جس پر اربوں روپے کی لاگت آتی ہے اور یہ ایک وقت طلب اور پیچیدہ کام ہے۔قدرتی یورینیم میں سے یورینیم-235 الگ کرنے کے پراسس کو یورینیم کی افزودگی(Enrichment of uranium) کہتے ہیں۔بلیک مارکیٹ میں صرف ایک کلو یورینیم-235 کی قیمت ایک ملین یو ایس ڈالر سے بھی زیادہ ہے جو کہ پاکستانی روپیوں میں 28 کروڑ سے بھی زیادہ بنتی ہے۔ایٹم بم میں کم ازکم 15 کلو گرام یورینیم-235 استعمال کی جاتی ہے اور اتنی یورینیم حاصل کرنے کے لیے آپ کو 1200 ٹن یورینیم کی Ores یعنی پتھر درکار ہوں گے۔
نوٹ:پیچیدگی سے پچنے کے لیے نیچے موجود عبارت میں یورینیم-235 کی بجاۓ صرف یورینیم ہی لکھا جاۓ گا جسکا مطلب یورینیم-235 ہی ہوگا۔
ایک چنگاری پورے جنگل کو آگ لگانے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ایسا نہیں ہوتا کہ ہر درخت کو آگ لگانے کے لیے اسے الگ الگ چنگاری سے بھڑکایا جاۓ۔کچھ ایسا ہی یورینیم کے ایٹمز میں ہوتا ہے۔جیسا کہ بیان ہوا ہے کہ ایٹم بہت چھوٹا ذرہ ہے اور اگر ایک کلوگرام یورینیم موجود ہو تو سوچیے اس میں کتنے کھربوں کھربوں ایٹمز موجود ہوں گے۔آپ جنگل کے ایک درخت کو یورینیم کے ایک ایٹم کی طرح تصور کیجیے۔اب جیسے ایک چنگاری سے جنگل کے تمام درختوں آگ سے بھڑک اٹھتے ہیں بالکل اسی طرح کا کچھ معاملہ یورینیم کے ایٹمز کے ساتھ ہوتا ہے۔
یورینیم ایٹمز پر جب نیوٹرانز ذرات کی بمباری کی جاتی ہے یعنی جب نیوٹرانز ذرات یورینیم کے کچھ ایٹمز سے ٹکراتے ہیں تو یہ یورینیم کے ایٹمز کو توڑ دیتے ہیں۔جب یورینیم کے ایٹمز ٹوٹتے ہیں تو یورینیم کے ہر ایٹم میں سے تین نیوٹرانز خارج ہوتے ہیں۔اب خارج ہونے والا ہر نیوٹران مزید یورینیم ایٹمز کی فشن کرتا ہے یعنی اسکو توڑتا ہے۔اسطرح کچھ لمحوں میں کھربوں ایٹمز ٹوتے ہیں جس کے نتیجہ میں بہت زیادہ مقدار میں آگ اور روشنی کی شکل میں تواناٸ(Energy) خارج ہوتی ہے۔اس پراسس کو چین ری ایکشن کہتے ہیں۔اسکا مطلب ہے کہ بہت زیادہ مقدار میں نیوکلیر انرجی پیدا کرنے کے لیے چین ری ایکشن کا وقوع پذیر ہونا نہایت ضروری ہے۔
چین ری ایکشن کا تصور ہنگری کے ایک ساٸنسدان لیو سلاڈر(Leo Szilard) نے دیا تھا۔اسکا خیال یہ تھا کہ یورینیم ایٹمز کو توڑنے کے نتیجہ میں خارج ہونے والے نیوٹرانز فضول نہیں ہیں بلکہ انکو مزید یورینیم کے ایٹمز کو توڑنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔جس کے نتیجہ میں بہت زیادہ مقدار میں ہیٹ اور روشنی(آگ) کی شکل میں انرجی خارج ہوگی۔کیونکہ ہر یورینیم یٹم کو توڑے کے نتیجہ میں تھوڑی مقدار میں انرجی(ہیٹ اور روشنی) خارج ہوگی اور اندازہ لگاٸیے کہ اگر چند لمحوں میں کھربوں یورینیم ایٹمز کو توڑا جاۓ تو کس قدر زیادہ مقدار میں انرجی خارج ہوگی!
یہ ایک بہت انقلابی خیال تھا اور چند سال بعد یعنی 1942 میں ایک اطالوی ساٸنسدان اینریکو فرمی اور کٸ دوسرے مہان ساٸنسدانوں کی کوششوں سے ایسا ممکن ہوپایا۔جب انہوں نے یورینیم کے ایٹمز پر نیوٹرانز گراۓ تو اسکے نتیجہ میں خارج ہونے والے نیوٹرونز نے مزید یورینیم ایٹمز کو نہیں توڑا۔اب ایسا اس لیے تھا کیونکہ یورینیم کے ایٹمز کو توڑنے کے نتیجہ میں ایٹمز میں سے جو نیوٹرانز خارج ہورہے تھے انکی سپیڈ(انرجی) بہت زیادہ تھی جسے کم کرنی کی ضرورت تھی۔
ان ساٸنسدانوں نے یورینیم ایٹمز سے خارج ہونے والے نیوٹرانز کی سپیڈ کم کرنے کا اہتمام بھی کرلیا تھا۔انہوں نے اس مقصد کے لیے گریفاٸٹ(کاربن کی ایک شکل) میٹریل استعمال کیا تھا۔جب خارج ہونے والے نیوٹرانز گریفاٸٹ راڈز سے ٹکراتے تو انکی سپیڈ کم ہوجاتی اور یوں وہ مزید یورینیم ایٹمز کو توڑنے کے قابل ہوتے۔ان نیوٹرانز کی سپیڈ کو کم کرنے کے لیے جو میٹیرل استعمال کیا جاتا ہے اسے”ماڈیریٹز“ کہا جاتا ہے۔گو کہ اس وقت گریفاٸٹ کو بطور ماڈریٹر استعال کیا گیا تھا مگر اسکے علاوہ بھی کٸ میٹریلز موجود ہیں جنہیں بطور ماڈیٹر استعمال کیا جاتا ہے جیسے پانی(Heavy Water) وغیرہ۔
جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے کہ چین ری ایکشن کے نتیجہ میں بہت زیادہ مقدار میں نیوکلیر انرجی(روشنی اور ہیٹ)خارج ہوتی ہے۔تاہم یہ ہمارے اختیار میں ہے کہ چین ری ایکشن کو کٹرول کرنا ہے یا نہیں۔ایٹم بم میں چین ری ایکشن کو کنٹرول نہیں کیا جاتا۔دوسرے الفاظ میں ایٹم بم میں استعمال کی گٸ یورینیم کے ایٹمز کو جب توڑا جاتا ہے توتوڑے گۓ ہر ایٹم میں سے خارج ہونے والے 2 یا 3 نیوٹرانز میں سے ہر نیوٹران مزید یورینیم ایٹم کی فشن کرتا ہے یعنی توڑتا ہے جس کے نتیجہ میں مزید 2 یا 3 نیوٹرانز خارج ہوتے ہیں اور یوں خارج ہونے والے 2 یا 3 نیوٹرانز مزید تین یورینیم ایٹمز کو توڑتے ہیں۔اسکے نتیجہ میں بہت کم وقت میں بہت زیادہ مقدار میں انرجی خارج ہوتی ہے جو ہر طرف تباہی مچادیتی ہے۔یہاں سے واضع ہوتا ہے کہ ایٹم بم اس وقت پھٹتا(Explode) ہے جب اسمیں استعمال ہونے والا نیوکلیر فیول(یورینیم) کے ایٹمز کو توڑا جاتا ہے اور سٹارٹ ہونے والے چین ری ایکشن کو کٹرول نہیں کیا جاتا۔
تاہم چین ری ایکشن کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے اور اسکے نتیجہ میں خارج ہونے والی ہیٹ کو استعمال کر کے بجلی پیدا کی جاتی ہے۔چین ری ایکشن کو کنٹرول کرنے کا مطلب یہ ہے کہ توڑے گۓ یورینیم کے ایٹمز میں سے ہر ایٹم میں سے خارج ہونے والے 2 یا 3 نیوٹرانز میں سے صرف ایک ہی نیوٹران مزید یورینیم ایٹم کی فشن کرتا ہے یعنی توڑتا ہے اور باقی نیوٹرانز جذب کروالیے جاتے ہیں۔یہ عمل نیوکلیر ری ایکٹرز میں انجام دیا جاتا ہے۔ان نیوٹرانز کو جذب کرنے کے لیے جو میٹریل استعمال کیا جاتا ہے اسے”کنٹرول راڈز کہتے ہیں۔کیڈمیم اور بورون ایلیمنٹس وغیرہ کو بطور کنٹرول راڈز استعمال کیا جاتا ہے۔
اب ظاہر ہے کہ کنٹرول چین ری ایکشن کے نتیجہ میں اتنی زیادہ مقدار میں انرجی خارج نہیں ہوگی جو کہ ایٹم بم میں چین ری ایکشن کو کنٹرول نہ کرنے کے نتیجہ میں خارج ہوتی ہے۔لہذا یہ تواناٸ تباہی و بربادی کا سب نہیں بنے گی
.jpeg)
.jpeg)

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں