اشاعتیں

Islamic name for girl | لڑکیوں کے اسلامی نام

تصویر
   *لڑکیوں کے اسلامی نام اور انکا مطلب * آزفہ Azifa قریب ہی آنے والی آشفتہ Ashifta حیران آفروزہ Aafroza چراغ کی بتی آفریدہ Afrida قربان آفریں Afreen خوشی، شاباش آمنہ Amina امن والی آویزہ Avezah خالص، پاکیزہ، لٹکنے والا زیور اثیلہ Aseela اعلٰی خاندان والی اجالا Ujala روشنی ادیبہ Adeeba ادب والی اریبہ Ariba عقل مند، ماہر اریکہ Arika خوبصورت تخت ازکی Azka پاکیزہ اساوری Asavri ریشم، راگ اسماء Asma بلند، علامت اسماء Asma بلند اسوہ Uswa نمونہ، مثال افشاں Afshan بکھیرنا، ظاہر افشیں Afsheen بکھیرنا افق Ufuq آسمانی کنارہ اقصٰی Aqsa دور کی جگہ اکیمہ Ukaima اونچی البیلا Albela آزاد، ظاہر الفت Ulfat پیار، محبت ام کلثوم Umme Kalsum پرکشش امّارہ Ammara حکم دینے والی امبریں Ambareen چادر، آسمان امیمہ Umaima قصد و ارادہ امینہ Ameena امانت دار انبیلہ Anbila لائق، قابل انجشہ Anjasha تلاش، حاصل کرنا انجلاء Injala صاف و شفاف انفال Anfal مال غنیمت انیسہ Anisa پیاری انیقہ Aniqa نادر، عمدہ انیلا Anila بھولی، حاصل کرنا ایمن Aiman بابرکت بابرہ Babura شیرنی بارزہ Bariza صاف، ظاہر بازغہ Bazigha روشن باس...

پاکستان کا قیام | پاکستان کا روحانی مقام | پاکستان اور اسلام |

تصویر
پاکستان کا قیام | پاکستان کا روحانی مقام | پاکستان اور اسلام |    پاکستان رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کی پر نور اور باسعادت شب یعنی لیلۃ القدر کو قائم ہوا۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ پاکستان کو ملنے والی یہ سعادت محض اتفاق ہے؟ ….نہیں ہر گز نہیں! ! پاکستان کے قیام کے لئے اس مبارک ساعت کے انتخاب میں پاکستانی قوم کے لئے ایک لطیف روحانی اشارہ موجود ہے۔ لیلۃ القدر سلامتی اور برکت والی رات ہے اسے سال کی تمام راتوں پر فضلیت ہے ۔ اس رات کی نعمتوں اور برکتوں سے وہی لوگ فیضیاب ہوتے ہیں جو اس رات کو تلاش کرتے ہیں۔لیلۃ القدر کی بابرکت ساعتوں میں پاکستان کا قیام اس حقیقت کی طرف قدرت کا اشارہ ہے کہ جس طرح لیلۃ القدر کو سال کی تمام راتوں پر فضیلت حاصل ہے اسی طرح مملکتِ خداداد پاکستان کو دنیا بھر میں ایک نمایاں ترین مقام حاصل ہوسکتا ہے مگر یہ اُس صورت میں ممکن ہے جب پاکستانی قوم پوری دیانت داری ، اخلاص ، ملک و ملت کے لئے مکمل ایثار کے ساتھ انتھک محنت کرکے اس مقام کو پانے کی کوشش کرے۔ اﷲ تعالیٰ کی نعمتیں و نوازشات اس قوم کا مقدرکر دی گئی ہیں لیکن ان نعمتوں کو پانا اور انہیں اﷲ تعالیٰ کی خو...

*جوان افراد میں ہارٹ اٹیک کی شرح میں مسلسل اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟*

تصویر
*جوان افراد میں ہارٹ اٹیک کی شرح میں مسلسل اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟* ایسے شواہد مسلسل سامنے آ رہے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ جوان افراد میں ہارٹ اٹیک کی شرح ماضی کی نسل کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔ درحقیقت معمر افراد میں ہارٹ اٹیک کی شرح میں کمی آئی ہے مگر جوان افراد (20 سے 50 سال) میں اضافہ ہوا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق زیادہ تر افراد کو لگتا ہے کہ ہارٹ اٹیک بوڑھے لوگوں کا مرض ہے مگر جوان افراد بھی کارڈک اریسٹ (حرکت قلب تھم جانے) یا ہارٹ اٹیک سے محفوظ نہیں۔ تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ جوان افراد میں ہارٹ اٹیک کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور تشویشناک امر یہ ہے کہ زیادہ تر مریضوں کو اس کی علامات کا بھی علم نہیں ہوتا۔   سینے میں تکلیف یا دباؤ کا احساس، جبڑوں، گردن، کمر یا ہاتھوں تک پھیلنے والا درد، سانس لینے میں مشکلات، کمزوری محسوس ہونا اور غشی طاری ہونا اس کی عام علامات ہیں۔ امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہارٹ اٹیک کے ہر 5 میں سے ایک مریض کی عمر 40 سال سے کم ہوتی ہے اور گزشتہ دہائی کے دوران ہر سال اس شرح میں 2 فیصد اضافہ ہوا۔ اس تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا ...

سائیکل کی ایجاد کے 200 سال

تصویر
  *2017 میں سائیکل کی ایجاد کو 200 سال مکمل ہوئے* سائیکل کی ایجاد کو 200 سال مکمل ہو گئے ہیں سائیکل بنانے کا سہرا ایک جرمن شہری بارون کارل فان ڈرائس کے سر جاتا ہے جنہوں نے 12 جون 1817 کو سائیکل ایجاد کی ۔ ایک رپورٹ کے مطا بق انسانی اعصاب کی طاقت کیساتھ کام کرنے والی یہ مشین 200 سال قبل ایجاد ہوئی تھی۔ سب سے پہلے سائیکل بنانے کا سہرا ایک جرمن بارون کارل فان ڈرائس کے سر جاتا ہے، اس بات پر تمام تاریخ دان بھی متفق ہیں۔ ڈرائس نے 12 جون 1817 کو اپنے آبائی شہر منہائیم میں ایک تجربہ کیا۔ انہوں نے اپنی دو پہیوں والی رننگ مشین یا دوڑنے والی مشین پر سواری کی۔ لکڑی کے ایک فریم اور لوہے کے بنے دو پہیے، بغیر پیڈل کے اس مشین کو ڈرائسینے کا نام دیا گیا۔سائیکل کی ایجاد کو بارون کارل فان ڈرائس نے 1818 میں اپنے نام سے منسوب کرایا۔ ڈرائس نے 12 جون 1817 کو اپنے آبائی شہر میں تجرباتی طور پر اپنی دو پہیوں والی رننگ مشین سواری کی۔ ڈرائس کی ڈرائسینے کی پہلی تجرباتی سواری کو دو سو برس پیر 12 جون کو مکمل ہو رہے ہیں۔ اس حوالے سے ہفتہ 10 جون اور اتوار گیارہ جون کو جرمن شہر منہائیم میں درجنوں مختلف یادگاری تقری...

انسانی انکھ کے بارے میں دلچسپ اور انوکھی معلومات

تصویر
 *انسانی آنکھ کے بارے میں کچھ دلچسپ اور انوکھی معلومات* اس پوسٹ میں ہم آنکھ کو آسان الفاظ بیان کرینگے۔ ہماری آنکھ جسم میں موجود اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے جس کی ہماری زندگی میں رعنائی قائم ہے اور اس دنیا کی خوبصورتی سے ہم لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ہماری آنکھ کا سائز ایک پنگ پانگ بال کے جتنا ہے جسکا سائز 24 ملی میٹر ہے اور پیدائش کے وقت یہ 12 ملی میٹر تک ہوتا ہے اور تین سال کی عمر تک یہ 23 ملی میٹر تک پہنچ جاتا ہے اور بارہ سال کی عمر تک 24 ملی میٹر کا سائز حاصل کرلیتا ہے۔ انسانی آنکھ ایک کیمرہ کی مشابہ کام کرتی ہے۔ انسانی آنکھ کی تین تہیں ہیں۔ 1-بیرونی ریشی پرت (Outer fibrous layer):- اس تہہ میں تین اجزاء ہیں:۔ ا- قرنیہ (cornea) شفاف گنبد نما اور باریک حصہ ہے۔ اسکا کام روشنی کو آنکھ داخل کرنا ہے اور یہ ائرس کے اوپر موجود ہوتا ہے۔ قرنیہ کی مثال آنکھ میں ایسی ہی ہے جیسے کسی گاڑی میں wind screen چونکہ قرنیہ avascular ہے یعنی کہ اس میں بلڈ ویسلر نہیں ہوتی اس لئے اسکی نشونما آنکھوں میں موجود ایکوس بیومر کے ذریعے سے ہوتی ہے۔ قرنیہ کی پانچ تہیں ہیں جو کہ:۔ 1- Epithelium 2- Bowman's membrane 3...

*سائنس کیا ہے

تصویر
 *سائنس کیا ہے؟ کارل پوپر نے سوال اٹھایا تھا کہ سائنس کیا ہے؟ سائنس اور سوڈوسائنس کی تفریق میں لکیر کہاں کھینچی جائے؟ انہوں نے اس کا ایک پہلا جواب دینے کی کوشش کی تھی جس کے مطابق کوئی ایک ایویڈنس کسی ہاپئوتھیسس یا تھیوری کو رد کرنے کی لئے کافی ہے۔ پوپر کا اپنا خیال ناکافی ہے۔ اصل سائنس پر یہ سادہ جواب کام نہیں کرتا۔ سائنس کا فلسفہ اس سے آگے اور زیادہ نفیس طریقوں کی طرف بڑھ چکا ہے۔   ہمارے پاس سائنس اور غیرسائنس کو الگ کرنے کا سادہ جواب اس لئے نہیں کہ یہ مسئلہ سادہ نہیں۔ سائنس کی تاریخ، نرم اور سخت سائنس، نیم سائنس اور سوڈوسائنس کا تجزیہ، دانشوروں یا ماہرین کا تجزیہ یہ سب اپنی جگہ۔ سوال یہ کہ اس سے سائنس کی تصویر کیا ابھرتی ہے؟ اور ایک آزاد معاشرے میں یہ تصویر ہمیں زیادہ باخبر شہری رکھنے میں کیسے مدد کر سکتی ہے؟  یہ تو واضح ہو چکا ہو گا کہ سائنس ایک قسم کی ایکٹیوٹی نہیں ہے۔ اس کو کرنے کے کئی طریقے ہیں۔ اس کا انحصار زیرِ مطالعہ مضمون کی پیچیدگی سے ہے (پارٹیکل فزکس بمقابلہ نیوروبائیولوجی) یا اس سے ہے کہ سسٹم کا اپنا تعلق ہسٹری سے کتنا ہے (کیمسٹری بمقابلہ آسٹرونومی)۔ جتنا ...

ایک چڑیا اور اس کی انجینئرنگ ۔۔ سبحان اللہ

تصویر
ایک چڑیا اور اس کی انجینئرنگ ۔۔       سبحان اللہ                       بیّا ننھی سی خوبصورت چڑیا۔ اسے Weaver Bird بھی کہتے ہیں یہ چھوٹی سی چڑیا اپنا خوبصورت گھونسلہ بناتی ہے جسے Retortکہتے ہیں اس کی شکل الٹی بوتل جیسی ہوتی ہے ۔ یہ گھریلو چڑیا کے سائز کے مماثل ہوتی ہے۔ یہ ہندوستان برصغیر‘ افریقہ اور جنوب مغرب ایشیائی ممالک میں بکثرت پائی جاتی ہے ۔ یہ عموما گھاس کے میدانوں ‘زرعی کھیتوں اورپانی کے ذخائر کے قریب کثرت سے دیکھی جاسکتی ہے ۔ بئیا یا بایا چڑیا عام طور پانی سے اوپر لٹکتی درختوں کی ٹہنیوں ‘ناریل ششم کیکر ‘تاڑی سیندھی کی جھاڑیوں اور ٹیلیفون کے تاروں پر گھونسلہ بناتی ہے ۔ کیڑے مکوڑے اور گھاس پھوس کھا کر زندہ رہنے والی اس چڑیا کو سماجی پرندہ بھی کہا جاتا ہے اس کے گھونسلہ درخت سے زمین کی جانب لٹکتا رہتا ہے اس کا گول حصہ رہائشی علاقہ ہے اس کے نیچے کی جانب سوراخ ہوتا ہے جس میں سے چڑیا اندر داخل ہوتی ہے ۔ بیا کی چونچ ‘ مشین کی سوئی کی طرح چھوٹی اور تیز ہوتی ہے اس کی مدد سے یہ خوبصورت گھونسلہ بناتی ہے ۔ بئے کی...