انسانی انکھ کے بارے میں دلچسپ اور انوکھی معلومات
*انسانی آنکھ کے بارے میں کچھ دلچسپ اور انوکھی معلومات*
اس پوسٹ میں ہم آنکھ کو آسان الفاظ بیان کرینگے۔ ہماری آنکھ جسم میں موجود اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے جس کی ہماری زندگی میں رعنائی قائم ہے اور اس دنیا کی خوبصورتی سے ہم لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ہماری آنکھ کا سائز ایک پنگ پانگ بال کے جتنا ہے جسکا سائز 24 ملی میٹر ہے اور پیدائش کے وقت یہ 12 ملی میٹر تک ہوتا ہے اور تین سال کی عمر تک یہ 23 ملی میٹر تک پہنچ جاتا ہے اور بارہ سال کی عمر تک 24 ملی میٹر کا سائز حاصل کرلیتا ہے۔ انسانی آنکھ ایک کیمرہ کی مشابہ کام کرتی ہے۔
انسانی آنکھ کی تین تہیں ہیں۔
1-بیرونی ریشی پرت (Outer fibrous layer):- اس تہہ میں تین اجزاء ہیں:۔
ا- قرنیہ (cornea) شفاف گنبد نما اور باریک حصہ ہے۔ اسکا کام روشنی کو آنکھ داخل کرنا ہے اور یہ ائرس کے اوپر موجود ہوتا ہے۔ قرنیہ کی مثال آنکھ میں ایسی ہی ہے جیسے کسی گاڑی میں wind screen چونکہ قرنیہ avascular ہے یعنی کہ اس میں بلڈ ویسلر نہیں ہوتی اس لئے اسکی نشونما آنکھوں میں موجود ایکوس بیومر کے ذریعے سے ہوتی ہے۔ قرنیہ کی پانچ تہیں ہیں جو کہ:۔
1- Epithelium
2- Bowman's membrane
3- Stroma
4- Decemet
5- Endothelium
اسٹروما، قرنیہ کی وہ یہ ہے کہ اگر وہاں تک انفیکشن پہنچ جائے تو پھر ٹھیک نہیں ہوسکتا اور قرنیہ سفید یا corneal opacity ہوجاتی ہے اور پھر نیا قرنیہ لگانا پڑتا ہے جسے corneal transplant یا keratoplasty کہتے ہیں۔ قرنیہ کی سوجن کو keratitis کہتے ہیں جوکہ عموماً بیکٹیریل انفیکشن کی وجہ سے ہوتی ہے۔
ب-ملتحمہ (conjunctiva) :-
اسکلیرا پہ موجود باریک سی شفاف جھلی ہے جسکا کام سکلیرا کی حفاظت کرنا ہے کیونکہ سکلیرا یہ موجود خون کی باریک نالیاں موجود ہوتی ہیں۔ ملتحمہ کی دو اقسام ہیں:۔
وہ حصہ جو کہ قرنیہ کے کناروں :-Bulbar conjunctiva
سے شروع ہو کر پورے اسکلیرا یہ پھیلا ہوا ہے
وہ حصہ جو اسکلیرا کو :-Palpebral conjunctiva
چھوڑ کر پپوٹوں کے نیچے تک پھیلا ہوا ہے۔
ج- سكليرا (Sclera):-
کو ہم آنکھوں کا سفید حصہ بھی کہتے ہیں (white of the eye) سکلیرا کا کام آنکھوں کی شکل کو برقرار رکھنا ہے اور یہ پوری آنکھ کا دوتہائی ہے۔ اس پہ خون کی چھوٹی چھوٹی نالیاں (blood capillaries) موجود ہوتی ہیں۔اسکلیرا کی سوجن کو ہم scleritis کہتے ہیں جو کہ عموما آنکھیں سرخ ہونے پہ پہچانی جاتی ہیں۔
اب ہم آتے ہیں دوسری تہ پر
2-درمیانی عروقی برت Middle vascular (layer):
جیسا کہ نام سے واضح ہے کہ یہ حصہ اور اس میں موجود اجزاء بلد ويسلز پر مشتمل ہیں۔ اس میں بھی پہلی تہ کی طرح تین اجزاء موجود ہیں جوکہ
ا- کورائڈ (choroid) :-
آنکھوں کا سخت حصہ ہے جو کہ cartilage bone پر مشتمل ہے اور اسکا کام آنکھوں کو مظبوطی فراہم کرتا ہے۔
ب- آئرس (Iris):-
آئرس آنکھوں کا کلرنگ حصہ جو کہ آنکھوں کو رنگ دیتا ہے۔ اکثر لوگوں کے آنکھیں کالی نارنجی، نیلی اور سبز ہوتی ہیں، اسی آئرس کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ آئرس کے درمیان میں چھوٹا سا سوراخ ہوتا ہے جو کہ پتلی (pupil) کہلاتا ہے اور اسکا کام قرنیہ سے گزر کر روشنی کو آنکھ کے اندر پہنچانا ہوتا ہے۔ آئرس میں دو قسم کے مسلز ہیں جنکے سکڑنے اور پھیلنے کی وجہ سے پتلی پھیلتی اور سکڑتی ہے۔ پتلی کا پھلنا اور سکرنا دراصل روشنی کی مقدار کو آنکھوں تک پہنچانا ہوتا ہے۔
جیسا کہ نام سے واضح ہے کہ :Sphincter muscles -1 یہ مسلز سکڑتے ہیں اور انکے سکڑنے کی وجہ سے پتلی پھیلتی ہے۔
اس کے نام سے واضح ہے کہ یہ - Dilator muscles -2 مسلز پھیلتے ہیں اور ان کے پھیلاؤ کی وجہ سے پتلی سکڑتی ہے
ج -سیلیری بادی (Ciliary body):-
اسکا کام آنکھوں کے anterior chamber میں موجود ايكوس بيومر کا بنانا ، ايكوس بيومر سیلیری باڈی میں موجود سیلیری پراسس میں سیلیری مسلز کے ذریعے بنتے ہیں۔ ایکوس ہیومر کا کام انکھوں کے اندرونی حصے کے دباؤ کو برقرار رکھنا ہے اور جو دباؤ یہ بناتا ہے اسے انٹرا اکولر پریشر (Intra ocular pressure (IP کہتے ہیں۔ انسان میں یہ پریشر 20-12 ملی میٹر مرکری ہوتا ہے اور اگر اس رینج سے اوپر چلا جائے تو وہ ٹرم ocular hypertension کہلاتی ہے۔ اگر ocular hypertension کا باقاعدہ علاج نہ کروایا جائے تو یہ گلوکوما یا کالا موتیا جیسی sight threatening بیماری میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ ایکوس پیومر کا ایک اور سب سے اہم کام قرنیہ، آنرس اور لینز کو نشوونما مہیا کرنا ہے۔ ایکوس ہیومر سیلیری بازی میں بننے کے بعد anterior chamber میں داخل ہوتا ہے جہاں یہ قرنیہ کو نشونما دینے کے posterior chamber میں داخل ہوکر آنرس اور لینز کو نشوونما پہنچانے کے بعد آئرس کے پاس ایک چھلنی کی طرح کے سوراخ موجود ہوتے ہیں جنہیں trabecular meshwork کہلاتا ہے جہاں سے یہ خارج ہوکر دوبارہ خون میں شامل ہوجاتا ہے۔ جتنا ایکوس ہیومر سیلیری باری میں بنتا ہے، اتنا ہی trabecularmeshwork سے اخراج ہوتا ہے۔ سیلیری ہائی کوراند اور آئرس ملکر یوویا (uvea) بناتے ہیں اور اسکے انفیکشن کو uveitis کہتے ہیں جسمیں آنکھوں کا اندرونی حصہ مبتلا ہوتا ہے۔
اب ہم آتے ہیں آخری تہ میں جو کہ سب سے اہمیت کی حامل ہے۔
3-اندرونی حسی تہہ (Inner sensory layer):-
یہ تہہ رینینا پہ مشتمل ہے جسے ہم آنکھوں کا پردہ بھی کہتے ہیں۔ پردہ کا کام انکھوں میں داخل ہوئی روشنی سے عکس بنانا ہے۔ آنکھوں میں داخل ہوئی روشنی قرنیہ اور يتلى : گزر کر لینز پر پڑتی ہے اور لینز اس روشنی کو refract کرکے ایک نقطے پر مرکوز کر دیتا ہے جو کہ پردہ یا ریٹینا کہلاتا ہے۔ ریٹینا کا درمیانہ حصہ میکولا macula یا macula lutea کہلاتا ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں اصل امیج یا عکس بنتا ہے۔ میکولا پہ ہی تمام فوٹو ریسیپٹرز موجود ہوتے ہیں. میکولا کا درمیانہ حصہ fovea یا fovea Centralis کہلاتا ہے۔ اس جگہ یہ sharpest image بنتا مثلاً پین کی نوک کو دیکھنا یا سوئی میں دھاگہ ڈالنا۔ اسکے علاوہ رینینا پہ ایسی جگہ بھی ہے جہاں کوئی عکس نہیں بنتا جسے بلائنڈ سپاٹ (blind spot) یا اینک ڈسک (optic disk) کہتے ہیں کیونکہ یہاں پر کوئی بھی فوٹو ریسیپٹرز سیل موجود نہیں ہوتے ۔ یہی وہ جگہ جہاں سے ریٹینا ختم اور بصارتی نبض( optic nerve) شروع ہوتی ہے ۔ ریٹینا پہ تین قسم کے فوٹو ریسیپٹرز سیل موجود ہیں اگ حصہ
راڈز (Rods):-
وہ سیلز ہیں جو کہ رات کے وقت متحرک ہوتے ہیں اور ان کی تعداد آنکھوں میں تقریباً تقریباً ایک سو بیس ملین ہیں۔
کونز(Cones):-
وہ سیلز ہیں جو کہ دن کے وقت متحرک ہوتے ہیں اور انکا کام رنگوں کی تمیز کرنا ہے۔ ایک نارمل انسان میں تقریباً چھ ملین کونز سیل موجود ہوتے ہیں۔
ریٹینل گینگلیون سیلز(Retinal ganglion cells):-
انکا کام وہ عکس جو پردے پر بنا ہوتا ہے اسے لیکر آپٹک نرو تک پہنچانا ہوتا ہے۔ ایک نارمل انسان میں اسکی تعداد اعشاریہ چھ ملین سے لے کر ایک اعشاریہ دو ملین تک ہوتی ہے۔
عکس بننے کا عمل Mechanism of image formation:-
ریٹینا پہ بنا ہوا امیج فونو ریسیپٹرز سیل کی وجہ سے ہوتا ہے پھر اسکے بعد یہ عکس رینینل گینگلیوں سیلز سے اپٹک نرو یہ پہنچتا ہے جوکہ نیورانز کی مدد سے بجلی کی لہروں (electrical impulses) کی صورت میں دماغ کے حصے occipital lobe میں موجود visual cortex میں پڑھا جاتا ہے اور ساتھ ساتھ یہ امیج یا عکس temporal lobe میں بھی جاتا ہے جہاں موجود hippocampus میں یہ عکس یاداشت کے طور پر محفوظ ہوجاتا ہے۔ بہرحال visual cortex میں میسج پڑھنے کے بعد دماغ سے دوبارہ پڑھا ہوا میسج آپٹک نرو کے ذریعے ریٹینا پہ آتا ہے اور عکس بن جاتا ہے اور ہمیں دکھائی دیتا ہے۔ اکثر یہ سوال پیدا ہوتا ہوگا کہ دونوں آنکھوں میں عکس علیحدہ علیحدہ بنتے ہیں تو پھر ایک تصویر کیوں بنتی ہے؟ بات یہ ہے کہ ہماری دونوں آنکھیں ہمارے بہت ہی قریب ہوتی ہیں اور ایک ہی جیسی چیز دیکھ رہی ہوتی ہیں اب یہ ہمارا دماغ ہے جو ایک عکس دکھاتا ہے۔ اصل میں دکھائی ہمیں ایک آنکھ کا ہی دیتا ہے۔ جب دونوں آنکھوں سے عکس ہمارے پردے پر پڑتا ہے تو یہ گینگلیون سیلز ganglion cells کے ذریعے بصارتی اعصاب optic nerve کے ذریعے دماغ تک ہے۔ اب چونکہ آپ کو معلوم ہے کہ دونوں آنکھوں کی آپنک کہ عکسی پیغام علیحدہ علیحدہ لیکر جاتی ! اور دونوں آینک نرو ایک جگہ یا پوائنٹ پر ملتی ہیں جو کہ optic chiasm کہلاتی ہیں اور یہی وہ پوائنٹ ہے جہاں دونوں آنکھوں سے آئی ہوئی امیج ایک ہوجاتی ہے۔ آینک کیازم میں عکس کی سائنیپسس یا crossing over ہوتی ہے اور یہ x shape کی شکل بناتی ہے۔
اب ہم کچھ اور چیزیں بھی ڈسکس کرتے ہیں جو کہ انکھوں کی اناتومی و فزیالوجی کے حوالے سے ضروری ہیں۔
ہماری آنکھیں دو حصوں میں تقسیم ہیں:
1-اندرونی سیگمنٹ (Anterior segment or Aquos body):-
یہ حصہ لینز سے لیکر قرنیہ تک ہوتا ہے اور یہ بھی مزید دو چیمبر میں تقسیم ہوتا ہے
ا- اندرونی چیمبر (anterior chamber):-
یہ حصہ کورنیا سے آئرس تک ہہے۔
ب-بیرونی چی(Posterior chamber):-
یہ حصہ ائرس سے لیکر لینز تک ہوتا ہے۔
اندرونی سیگمینٹ میں لینز بھی موجود ہے جو کہ biconcave شكل کی صورت میں ہماری آنکھوں میں موجود ہے۔لینز جو کہ کرسٹل اور ٹرانسپیرنٹ ہے۔ اور عموماً پروٹین اور پانی کا بنا ہوا ہے ۔ہمارا لینز ایک بیگ کے اندر بند ہوتا ہے جسے ہم کیپسول کہتے ہیں۔ کیپسول کے اندر بند ہونے کی وجہ یہ بھی ہے کہ وئرس ہومر لینز کو دھندلا نہ کردیں اور کیپسول چونکہ دھاگے نما ڈور سے بندھے ہوئے ہوتے ہیں بھی suspensory ligaments یا zonnules جنہیں ہم دینا ہے اور accommodations کہتے ہیں، جنکا کام لینز کو جس کے ذریعے لینس روشنی کی مقدار کا تعین کرتا ہے۔ لینز دو حصوں میں تقسیم ہوتا ہے
Cortex اور
Nucleus
عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ لینز سفید ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
کیونکہ اس میں موجود پروٹین اپنی اصلی حالت کھو بیٹھتا ہے (coagulate) اور اس حالت کو سفید موتیا یا cataract کہتے ہیں۔ اس کے تدارک میں پھر آپریشن کے بعد قدرتی لینز نکال کر آرٹیفیشل لینز یعنی( intra ocular (lens لگا دیا جاتا ہے ۔
2-پوسٹیریئر سیگمنٹ(posterior segment):-
یہ حصہ وٹرس ہیومر اور ریٹینا پہ مشتمل ہے۔ ریٹینا کے بارے میں ہمیں معلوم ہوگیا اب ہم وئرس ہومر کے بارے میں جانتے ہیں
وٹرس ہیومر (Vitreous humor):-
یہ ایک جیلی نما سیال مادہ ہے جو کہ آنکھوں کے دباؤ کو قائم رکھتا ہے. اگر خدا نخواستہ یہ مادہ آنکھوں سے نکل گیا تو آنکھیں سوکھ جائیں گی۔ اکثر وبیشتر آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ ہمیں دھاگے نما چیزیں تیرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں جوکہ فلوٹرز کہلاتے ہیں یہ دراصل کوئی بیماری نہیں بلکہ وٹرس ہیومر میں بلبلے یا کوئی کچرے نما چیز آ جاتی ہے اور فلوٹرز کی صورت میں دکھائی دیتی ہے۔ میں
کچھ اور چیزوں کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں جو کہ ضروری ہیں۔
1-Six muscles of eye:- یہ وہ مسلز ہیں جسکی وجہ سے آنکھ دائیں بائیں، اوپر نیچے حرکت کرتی ہیں ان میں
1- Superior rectus
2- Inferior rectus
3- Medial rectus
4- Lateral rectus
5- Inferior oblique
6- Superior oblique
لمبس (limbus):-
وہ جگہ یا جنکشن ہے جہاں کرنیہ، سکلیرا سے جدا ہو رہا ہے
The junction between cornea and Sclera
آنسو بننے کا عمل (tears production):-
ہمارے آنسو کا pH 7 ہے جو کہ نیوٹرل گردانا جاتا ہے۔ انسو کی تین تہیں ہیں
ایکوس تہہ(Aquos layer):-
یہ تہہ سب سے موٹی اور اسکا کام آنکھوں کو تر رکھنا اور جراثیم کو دور رکھنا
میوسن (mucin layer):-
اس تہ کا کام آنسوؤں کو انکھوں سے لگا کر رکھنا ہے۔
آئلی تہہ(Oily layer):-
اس تہ کا کام آنسوؤں کو بخارات بن کر اڑنے سے بچانا ہے ۔
ہمارے آنسو زیاده تر نمک سودیم کلورائیڈ اور پانی پر مشتمل . اس کے علاوہ پوٹاشیم اور ہانکاربونیٹ شامل آنسوؤں میں اک خاص قسم کا انزائم ہے جسے lysozyme کہتے ہیں جو کہ جراثیم کش اثر رکھتا ہے۔ آنسو ہمارے لیکریمل گلینڈز میں بنتے ہیں جو کہ آنکھوں کے عین اوپر موجود ہیں. ہمارے آنسو پر دفعہ پلک جھپکنے یہ آنکھ کے بابری حصے میں پھیل جاتے ہیں اور پھر یہ آنکھوں کے کولوں میں موجود چھوٹے چھوٹے سوراخ ہیں جنھیں
ہم puncta کہتے ہیں جو کہ دونوں پپوئوں کے آخری میں موجود ہیں وہاں سے خارج ہو جاتے ہیں اور puncta کے نیچے nasolacrimal duct سے ہوتے ہوئے تاک میں گر جائے اگر خدانخواستہ آنسو بننے کا عمل سست پڑ جائے یا کوئی انسو کی نہ خراب ہو جائے تو ایسی صورت کو ہم dry eye syndrome کہتے ہیں جسکا علاج کوئی نہیں صرف آرٹیفيشل نئیرز کا استعمال کرتے ہیں۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں