گیارویں کی حقیقت | گیارویں شریف کیوں منائی جاتی ہے
گیارویں کی حقیقت | گیارویں شریف کیوں منائی جاتی ہے
گیارہویں شریف کیوں منائی جاتی ہے کیا یہ منانا صحیح ہے حوالہ بیان کریں؟
جواب!
اس کے متعلق میں اتنا عرض کرتا ہوں کہ گیارہویں شریف ایک مستحب کام ہے کہ جس کیلئے ہم کتاب و سنت سے دلیل ثابت کریں اسکی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ ہم محض اپنا تعلق
حضور غوثِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ سے
پیدا کرنے کیلئے ثواب کا ہدیہ پیش کرتے ہیں جسکو ہر مسلمان مانے گا اور کوئی دلیل طلب نہیں کرے گا۔
البتہ ایصال وثواب کے ثبوت کیلئے مشکواۃ شریف سے روایت پیش کرتا ہوں کہ حضرت سعد رضی اللّٰہ عنہ رسالت مآب ﷺ❤️کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ ﷺ❤️ میری والدہ فوت ہوگئی ہے میں انکی طرف کچھ ہدیہ پیش کرنا چاہتا ہوں تو آپﷺ❤️ نے فرمایا! اے سعد ایک کنواں اپنی والدہ کے نام سے کھدوا لو تو اسکا ثواب تیری والدہ کو ملتا رہے گا چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایسا کیا اور اس کنویں کانام ام سعد ہوگیا معلوم ہوا کسی چیز کا غیر کے نام سے موسوم ہونا شرک نہیں بلکہ جائز ہے اور میں تو یہ کہوں گا کہ کسی بزرگ کے نام سے موسوم ہونا موجب اجر ہے۔ اب ذرہ سوچنے کا مقام ہے کہ جسکا اصل کتاب و سنت سے ثابت ہو وہ کیسے ناجائز ہوسکتا ہے باقی رہا خصوصیت کی دلیل تو اس کیلئے اتنا ضرور جان لینا چاہئے کہ یہ لوگ جو مدارس پڑھاتے ہیں اور تنخواہیں لیتے ہیں کیا صحابہ نے بھی تنخواہ لی تھی کیا صدیق اکبررضی اللہ عنہ ‘ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ‘ عثمان غنی رضی اللہ عنہ‘ علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم نے بھی تنخواہیں لی تھیں اور یہ جو نماز‘ روزہ ‘ حج و زکواۃ وغیرہ کی نیت زبان سے کرتے ہو کیا صحابہ کرام‘ مجتہدین عظام نے بھی اسیطرح زبان سے نیت کی تھی؟ ہرگز نہیں۔ لہذا تمہارا یہ کہنا کہ جو کام حضورﷺ❤️ نے نہیں کیا وہ بدعت ہے تو تم بھی بدعتی ہوئے اور گمراہ بھی کیونکہ ہر شخص نماز کی نیت زبان سے کرتا ہے حالانکہ نیت کا معنی ہے ’’النیۃ قصدا لقلب‘‘یعنی فقط دل کا ارادہ نیت کیلئے کافی ہے۔
لہذا تمہارا ہر ایک کام کو بدعت قرار دینا اور خاص طورپر وہ فعل جسکا ماخذ کتاب وسنت ہو کوناجائزکہنا ہے ناجائز ہے۔ اسی طرح مسجد کے مینار وغیرہ بنانا اور یہ نقش نگار کا بنانا کہاں ہے اسکا ثبوت کہیں نہیں مگر یہ جائز ہے اگر کوئی انگوٹھے چوم لے تو یہ بدعت کیونکہ یہ ضعیف حدیث سے ثابت ہے۔ گردن کا مسح کرنا‘ جوہر متوفی‘ اس پر عمل کرتا ہے یہ بھی ضعیف حدیث سے ثابت ہے اسکو بدعت نہیں کہیں گے! اور کوئی بھی ثابت نہیں کرسکتا کہ یہ حدیث مسح علی الرقبۃ مرفوع ہے۔ تعجب ہے اس پر تو عمل کرتے ہیں اور انگوٹھے چومنے کو بدعت و گمراہی قرار دیتے ہیں تو اب لامحالہ کہنا پڑے گا کہ جو کام ثواب کی نیت سے کیاجائے وہ جائز ہے
(خواہ اسکے ثبوت کیلئے حدیث ہو یا نہ ہو )
اب بتائو کیاگیارہویں شریف ثواب کی نیت سے کی جاتی ہے یا نہیں اور جب یہ ثواب کی نیت سے کی جاتی ہے اور پھر اسکی اصل حدیث میں بھی موجود ہے تو پھر یہ کیسے ناجائز ہوگی؟
شیخ محقق الشاہ عبدالحق محدث دہلوی جو حضورﷺ❤️ کے حکم سے ہندوستان میں آئے اور سرکارﷺ❤️ کی حدیث کے فیض کو جاری فرمایا اور انکو غیر بھی مانتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ آقاﷺ❤️ کے دربانوں میں سے ہیں وہ اپنی کتاب ماثبت باسنہ ص ۱۷۶ مطبعہ نل کشور میں تحریر فرماتے ہیں
🥀ترجمہ🥀
ہمارے ملک میں ان دنوں ۱۱ ربیع الثانی ہی زیادہ مشہور ہے اور غوث الاعظم کی اولاد و مشائخ عظام ہندوپاک میں گیارہویں تاریخ کو عرس مناتے ہیں نیز اسیطرح پیرو مرشد سیدنا سید ی ابوالمحاسن سید شیخ موسی حسنی جیلانی ابن شیخ کامل عارف حق معظم ومکرم ابو الفتح شیخ حامد حسنی جیلانی ایک متفق علیہ ولی اللہ تھے جنکا لقب مخدوم ثانی اور عبدالقادر ثانی تھا انہوں نے اپنے آباء کرام کی زبانی آپ کے عرس کی تاریخ گیارہویں لکھی ہے۔(مومن کے ماہ و سال از شیخ عبدالحق محدث دہلوی ص ۱۶۷ ارھ)
یعنی انکے طریقوں پر چلنا نجات ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی یہی راہ بتائی ہے کہ ہر نمازی ہر رکعت میں یہی دعا مانگتا ہے کہ
🌹اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ 🌹
اے اللہ تعالیٰ مجھے راہ مستقیم پر چلا۔ان لوگوں کی راہ جس پر تو نے انعام فرمایا۔
اور راہ مستقیم کیا ہے وہ یہ ہے اور انعام یافتہ بندے کون ہیں وہ یہ ہیں کہ
اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَاء ِوَالصَّالِحِیْنَ
🥀ترجمہ🥀
جس پر اللہ نے انعام فرمایا وہ انبیاء ‘ صدیقین‘ شہداء اور صالحین ہیں۔
معلوم ہوا نجات ان دروازوں سے ملتی ہے اور یہ پیران پیر جو بے شمار ولیوں کے پیر ہیں غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں اور ان کا اورانکی اولاد کا فعل میرے لئے محبت ہے اگر انکی اولاد غلط ہے تو پھر سلسلہ ہی ختم ہوجائے گا۔۔
واللہ اعلم ورسولہ اعلم

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں