انسانی دانت کا تعارف ,| Introduction to the human tooth

 انسانی دانت کا تعارف





ذرا سوچیے کہ اگر دانت موجود نہ ہوں تو خوراک کو نگلنے میں کتنی مشکل درپیش آٸے گی۔یہ دانت ہی ہیں جو خوراک کو پیس کر اسے اس قدر باریک کردیتے ہیں جس سے خوراک کو نگلنے  میں آسانی ہوتی ہے۔آپ دانتوں کو پیسنے کی چکیاں کہہ سکتے ہیں مگر اسکے علاوہ بھی دانت بہت سے اہم کام کرتے ہیں۔مثال کے طور پر یہ ہمیں بولنے میں مدد دیتے ہیں۔ایسے بہت سے الفاظ ہیں جن کی اداٸیگی دانتوں کے بغیر ہو ہی نہیں سکتی۔آپ ”ط“ اور ”ت“ کی مثال ہی لے لیجیے،یہ الفاظ اور اسطرح کے کٸ دیگر الفاظ ایسے ہیں جن کو ادا کرنے کے لیے دانتوں سے زبان کا چھونا بہت ضروری ہوتا ہے وگرنہ تلفظ غلط ہوجاتا ہے۔با ایں ہمہ ہم دانتوں کی قدر نہیں کرتے۔


خوراک کو پیس کر یا چبا کر یہ ہمارا کام آسان کردیتے ہیں۔کیونکہ خوراک کو ہم  جتنا اچھی طرح چباٸیں گے یا پیسیں گے ،ہمارے معدہ کو ایسی خوراک کو ہضم کرنے میں اتنی ہی کم محنت کرنا پڑتی ہے اور ایسی خوراک نسبتاً آسانی سے ہضم ہوجاتی ہے۔اچھی طرح چبانے کا ایک فاٸدہ یہ بھی ہے کہ اس دوان زیادہ تھوک(Saliva) خوراک میں شامل ہوتی ہے یہ تھوک ہے بڑی کام کی چیز۔اس میں ایسے کیمکلز(اینزاٸمز جیسے ایماٸ لیز) موجود ہوتے ہیں جو خوراک(بالخصوص میٹھی اور نشاسہ والی غذاٸیں)کو ہضم کرتے ہیں۔لہذا خوراک کو اچھی طرح چبا کر کھاٸیے۔


جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اسکے منہ میں دانت نہیں ہوتے۔ایسا اس لیے بھی ہے کہ اسکو اس وقت دانتوں کی  ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ اس کے لیے ماں کا دودھ ہی  بہترین اور مکمل غذا ہوتی ہے،جس میں اس کی ضرورت کے تمام ضروری غذاٸ اجزا موجود ہوتے ہیں۔ایسی عمر میں ویسے بھی بچے کا معدہ اتنا طاقتور نہیں ہوتا کہ بھاری یعنی ثقیل غذاٸیں ہضم کرسکے۔جیسے ہی بچہ 6 ماہ کی عمر کو پہنچتا ہے تو دانت نکلنے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور تین سال کے عرصہ میں تقریباً اس کے سارے دانت نکل آتے ہیں۔ایسے دانتوں کو دودھ کے دانت(Milk Teeth) کہا جاتا جن کی تعداد عموماً 20 ہوتی ہے۔


جیسے ہی بچے کی عمر بڑھتی ہے اور جب وہ 6 سال کا ہوجاتا ہے تو اس کے دانت گرنا شروع ہوجاتے ہیں اور تقریباً 14 سال کی عمر تک پہنچتے ہیں اسکے سارے دانت گرچکے ہوتے ہیں۔ان کی جگہ اور دانت نکلتے ہیں جن کی تعداد 32 ہوتی ہے(بشمول عقل کی داڑھ)۔ان دانتوں کو مستقل دانت(Permanent Teeth) بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ دوبارہ نہیں گرتے اور انکے ساتھ ہمارا زندگی بھر کا ساتھ ہوتا ہے۔۔ہاں کیڑا لگنے کی وجہ سے انہیں نکالنا پڑ جاۓ یا کسی چوٹ کی وجہ سے یہ اکھڑ جاٸیں تو یہ الگ بات ہے۔


اگر ایک انسانی دانت کا بغور جاٸزہ لیا جاۓ تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ مختلف حصوں سے بنا ہوتا ہے۔اسکو اسطرح  سمجھ سکتے ہیں جیسے پیاز کی مختلف تہیں(Layers) ہوتی ہیں۔دانت کا اوپری سفید حصہ کو  اینامل(Enamel)کہتے ہیں(تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے)۔یہ ہمارے جسم کا سب سے سخت حصہ ہے۔یہ زیادہ تر(96 فیصد) کیلشیم اور فاسفورس سے بنا ہوتا ہے البتہ کچھ مقدار میں پانی اور دیگر مادے بھی موجود ہوتے ہیں۔اسکو آپ دانت کا باڈی گارڈ کہہ سکتے ہیں کیونکہ یہ دانت کی حفاظت کرتا ہے اور اسکو گرمی اور سردی کی شدت وغیرہ سے بچاتا ہے۔یہ اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ 200 پاٶنڈ کا پریشر بھی برداشت کرسکتا ہے۔


اگر اینامل کو اتارا جاۓ تو اسکے نیچے پیلے رنگ کا ایک اور حصہ موجود ہوتا ہے جسے ڈینٹن(Dentin)کہتے ہیں(تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے)۔گو کہ یہ بھی مضبوط اور سخت ہوتا ہے مگر یہ اینمل کے مقابلے میں کم سخت ہوتا ہے۔یوں سمجھ لییجیے کہ یہ اتنا ہی سخت ہے جتنی کہ  ہمارے جسم کی ہڈی ہوتی ہے۔اینیمل اس حصہ کی حفاظت کرتا ہے کیونکہ اینامل نے اسکو ڈھانپا ہوتا ہے۔ڈینٹن کی موٹاٸ اینمل کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔


اگر ڈینٹن کو اتارا جاۓ تو اسکے نیچے ایک اور حصہ بھی موجود ہوتا ہے جسےڈینٹل پلپ(Dental Pulp)کہتے ہیں(تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے)۔یہ دانت کا سب سے حساس حصہ ہوتا ہے۔اس حصہ میں خون کی نالیاں(Blood Vessels) اور نروز(Nerves)موجود ہوتے ہیں۔اب چونکہ دانت کو بھی نشوونما کے لیے خوراک(Nutrients) اور آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے لہذا پلپ میں موجود خون کی نالیاں یہ کام کرتی ہیں یعنی خون کے ذریعے ایسی ضروری چیزیں دانتوں تک پہنچاتی ہیں۔اسکے علاوہ اس حصہ(Pulp) میں موجود نروز دانت میں ہونے والے درد,ٹمریچر کی شدت وغیرہ کے پیغام کو دماغ تک پہنچاتے ہیں۔


اگرچہ دانت اور ہڈیاں دکھنے میں ایک جیسی لگتی ہیں مگر ان میں فرق ہوتا  ہے۔اگر ہڈی ٹوٹ جاۓ تو یہ دوبارہ سے پیدا(Regenerate)ہوجاتی ہے لیکن اگر دانت(Permanent Teeth) ٹوٹ جاۓ،اکھڑ جاۓ یا گر جاۓ تو یہ دوبارہ پیدا نہیں ہوسکتا۔جن لوگوں کے دانتوں میں کیڑا لگ جاتا ہے اور اگر وہ ایسے دانت نکلوا دیں تو وہ دوبارہ سے پیدا نہیں ہوں گے۔


دانت ہماری خدمت پر مامور ہیں مگر ہم انکی ذرا بھی پرواہ نہیں کرتے۔یہ بہت دکھ کی بات ہے۔اب دیکھیے نہ جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو کھانے کے کچھ ٹکڑے دانتوں کے پیچ جمع ہوجاتے ہیں۔جو لوگ دانتوں کی صفاٸ کا خاص خیال رکھتے ہیں انکے لیے تو اتنا مسٸلہ نہیں ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہماری ایک بڑی تعداد ایسا نہیں کرتی۔اب ہمارے منہ میں لاکھوں ایسے نقصاندہ جراثیم(بیکٹریا) بھی موجود ہیں جو اس کھانے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔یہ جراثیم اس کھانے(بالخصوص میٹھا،تیزابی اور نشاستہ دار کھانا) پر پلتے ہیں۔کھانے کے ٹکڑے اور بیکٹریا مل کر ایک پیلے رنگ کی میل بناتے ہیں جو دانتوں سے چمٹ جاتی ہے۔اسے Plaque کہتے ہیں۔اگر اس میل کو نہ اتارا جاۓ تو یہ کچھ دنوں میں ہی دانتوں سے اتنی مضبوطی سے چمٹ جاتی ہے کہ پھر اسے ٹوتھ برش سے اتارنا  بھی مشکل ہوجاتا ہے۔اس سخت تہہ کو Tartar کہتے ہیں ہے


اس تہہ میں موجود  دشمن بیکٹریا جن کا نام Streptococcus Mutans ہے، کھانا کھا کر تیزاب(لیکٹک ایسڈ)بناتے ہیں۔یہ تیزاب ہمارے دانتوں کی اوپری حصہ یعنی اینامل کو خراب کرنا شروع کردیتا ہے(یعنی اس میں موجود کیلشیم اور فاسفورس کو حل کردیتا ہے جس سے اینمل کی تہہ باریک ہو کر کمزور ہونا شروع ہوجاتی ہے)۔بعض اوقات تو یہ انیامل میں سوراخ کردیتے ہیں جسے دانتوں کا کیڑا لگنا کہتے ہیں۔تاہم مندرجہ اقدامات کر کے ہم اپنے دانتوں کو خراب ہونے یا سڑنے(Tooth decay) سے بچا سکتے ہیں:


١)تمباکو نوشی سے مکمل پرہیز کیا جاۓ کیونکہ اسکی وجہ سے عموماً منہ خشک ہوجاتا ہے۔منہ کا خشک ہونا دانتوں کے خراب ہونے کے خطرے کو بڑھادیتا ہے۔اسکی وجہ یہ ہے کہ منہ میں جب تک دھوک یعنی منہ نم رہتا ہے تو یہ تھوک منہ کے تیزابیت کے اثر کو کم کردیتی ہے جس سے دانت خراب ہونے کا امکان کم ہوجاتا ہے۔


٢))میٹھے اور تیزابی مشروبات جیسے کاربونیٹڈ مشروبات مثلاً سیون اپ،پیسپی،کوکا کولا،سپراٸیٹ وغیرہ کا کم سے کم استعمال کیا جاۓ۔ایک تو ان میں پایا جانے والا فاسفورک ایسڈ ہڈیوں سے کیلشیم نکال کر انہیں کمزور کردیتا ہے اور انکا دوسرا بڑا نقصان یہ ہے کہ ان میں شوگر کافی مقدار میں پاٸ جاتی ہے۔بیکٹریا اس شوگر کو استعمال کر کے تیزاب بناتے ہیں جو دانتوں کو خراب کرتا ہے۔


٣)کھٹی چیزیں جیسے لیمو،مالٹا،ٹماٹر اور سنگترا وغیرہ تیزابی اثر رکھتی ہیں،لہذا انکا زیادہ استعمال نہ کیا جاۓ۔کیونکہ یہ منہ کی تیزبیت میں اضافہ کرتی ہیں اور منہ کی تیزابیت میں اضافہ سے دانت خراب ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔


٤)کچھ دواٸیں جیسے الرجی،ڈپریشن وغیرہ کی دواٸیں منہ خشک ہونے کا سبب بن سکتی ہیں۔کوشش کی جاۓ کہ انکا کم سے کم استعمال کیا جاۓ۔


٥)دانتوں کی صفاٸ کے لیے دن میں دو مرتبہ(بالخصوص صبح و شام) دانتوں کو فلوراٸیڈ ٹوتھ برش سے صاف کیا جاۓ۔دانتوں کے درمیان پھنسے خوراک کے ٹکڑوں کو نکالنے کے لیے انکی فلاسنگ کی جاوے۔


٦)دانتوں یعنی اینامل کو مضبوط کرنے کے لیے کیلشیم(دودھ کیلشیم کا بہترین ذریعہ ہے)، فاسفورس،وٹامن ڈی اور وٹامن کے سے بھرپور غذاٸیں استعمال کی جاٸیں۔کیونکہ انیامل جتنا مضبوط(یعنی اسکی موٹاٸ جنتی زیادہ ہوگی)ہوگا کیڑا لگنے یا دانت خراب ہونے کی رفتار اتنی سست ہوگی۔


مندرجہ بالا ہدایات پر عمل پیرا ہو کر آپ اپنے دانتوں کو خراب ہونے سے بہت حد تک بچاسکتے ہیں۔امید ہے آٸندہ سے آپ ان اقدامات پر سختی سے عمل پیرا ہو کر اپنے پیارے دانتوں کی صحت کا خاص خیال رکھیں گے۔


اب ہم بات کرتے ہیں کہ ہمارے دانت(Permanent Teeth) کتنی اقسام کے ہوتے ہیں۔اگر آپ تصویر پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ ہمارے دانت چار طرح کے ہوتے ہیں۔اوپر اور نیچے والے جبڑے کے سامنے کے چار دانت(کل 8 دانت) کا نام Incisors ہے۔یہ دانت خوراک جیسے گاجر،سیب وغیرہ کو کاٹنے کا کام کرتے ہیں۔انکے ساتھ ہر ساٸیڈ پر ہر ایک دانت موجود ہوتا ہے جس کا نام Canine ہے(کل 4 دانت)۔یہ نوکیلے اور تیز دانت ہوتے ہیں۔یہ کھانا جیسے گوشت وغیرہ کو پھاڑنے کا کام کرتے ہیں۔شکاری جانور جیسے کتا،شیر اور چیتے میں بھی یہ ایسے دانت موجود ہوتے ہیں جو شکار کرنے میں اہم کرداد ادا کرتے ہیں۔


تصویر کے مطابق اسکے بعد Premolars کا نمبر آتا ہے۔انکی تعداد 8 ہوتی ہے۔اسکے بعد منہ کے بالکل پیچھے کی جانب 12 دانت(ہر ساٸیڈ پر تین دانت) ہوتے ہیں انکا نام Molars ہے اور اردو میں انہیں داڑھ کہتے ہیں۔یہ خوراک کو پیسنے کا کام کرتے ہیں۔زیادہ تر(90 فیصد) خوراک چبانے کا کام یہی دانت کرتے ہیں۔اگر ان میں کیڑا لگ جاۓ تو خوراک کو پیسنے یا چبانے میں بڑی مشکل پیش آتی ہے۔یہاں پر یہ بات بتانا ضروری ہے کہ جن لوگوں میں عقل کی داڑھیں(Wisdom teeth) ہوتی ہیں(جن کی تعداد 4 ہوتی ہے یعنی ہر ساٸیڈ پر ایک داڑھ) تو ایسے لوگوں میں دانتوں کی تعداد 32 ہوتی ہے مگر کچھ لوگوں میں عقل کی داڑھیں موجود نہیں ہوتی ہیں اور یوں ان کے دانتوں کی تعداد 28 ہوتی ہے۔عقل کی داڑھ عموماً 17 سے 21 سال کی عمر میں نمودار ہوتی ہے۔اسکو عقل کی داڑھ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اس وقت آتی ہے جب انسان میچور ہوتا ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

پاکستان کے دس خوبصورت ترین مقامات

عرب کی پرانی ثقافت پر آج عمل کیوں؟

پاکستان میں آرمی ایکٹ کے تحت سویلینز کا ٹرائل کیسے ہوتا ہے؟|How is the trial of civilians under the Army Act in Pakistan?