اشاعتیں

دجال اور پاکستانی عوام & مشہور بابا

تصویر
 میرا اعتراض بلوچی بزرگ پر نہیں ہے اور نہ ہی ہم ان کی مقبولیت سے خائف ہیں ۔ میرا اعتراض اس قوم پر ہے ۔ سادہ سا باریش اور معمر شخص قادر بخش مری صرف اپنے حلیے اور ہیئت سے مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد کو اپنا مرید بنا گیا ۔  کچھ تو جذبات میں اس قدر بہہ گئے کہ مشابہت صحابہ سے کردی ۔ بعض جوشیلوں نے سیدھا سیدھا حضرت ابو بکر  صدیق سے ملا دیا ۔  ایک نو سیکنڈ کی ویڈیو اس قوم میں ایک اجنبی شخص سے اس قدر عقیدت بھر دیتی ہے کہ وہ جوق در جوق اس کی جھونپڑی میں جا پہنچتے ہیں ، ہاوسنگ سوسائیٹی میں پلاٹ نام کردیتے ہیں ، جاوید آفریدی حج کے مفت پیکج کا اعلان کرتا ہے ، حب کی ایک جھونپڑی بوسہ گاہ خلائق بن جاتی ہے ٹی وی اور یو ٹیوب چینلز انٹرویو کے لیے ٹوٹ پڑتے ہیں ۔۔۔۔تو سوچیے سوچیے ! جب دجال کا ظہور ہوگا ۔۔۔ تو ہم اس کے حلیے اور ہیئت سے  متاثر نہ ہوں گے ؟  جو دنیا بھر کے شعبدے لے کر مشرق سے نکلے گا ، بارش برسائے گا ، صحرا گلستان میں بدلے گا ، کئی معجزات کھلی آنکھوں سے دکھائے گا ، جنت اور جہنم ساتھ لے کر چلے گا، تو کیا ہمارا ایمان متزلزل نہ ہوگا ؟  قادر بخش مری کی کوئی کرامت ...

عرب کی پرانی ثقافت پر آج عمل کیوں؟

تصویر
عرب کی پرانی ثقافت پر آج عمل کیوں؟ بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ ایک طرف یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ اسلام میں بڑی نرمی، آسانی اور وسعت ہے جس کی وجہ سے اسلام ہر طرح کے کلچر کو اپنے دامن میں سمو لیتا ہے البتہ ان میں رائج غلط چیزوں کے متعلق رہنمائی کردیتا ہے لیکن دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ کھانے پینے، پہننے، سونے جاگنے کے متعلق بیسیوں احکام و روایات موجود ہیں کہ ایسے کرو اور ویسے نہ کرو نیز مذہبی ماحول سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی عمومی مستحبات پر بہت زور دیتے دیکھا گیا ہے۔ اگر یہ سختی نہیں ہے تو کیا ہے کہ ساری قوم کو ایک ہی طرزِ زندگی پر مجبور کیا جاتا ہے۔ وہ نرمی، آسانی اور وسعت  کہاں ہے جس کا دعوی کیا جاتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں عرض یہ ہے کہ مستحبات میں دو طرح کے اعمال وافعال ہیں: ایک وہ جن کا تعلق معمولات ِ زندگی جیسے لباس، کھانے پینے، چلنے پھرنےوغیرہ سے ہے،جبکہ دوسرے وہ اعمال ہیں جن کا تعلق عبادات یعنی نماز، روزے، حج وغیرہا سے ہے، دونوں طرح کے امور میں مستحبات پر زور دئیے جانے کے اسباب مختلف ہیں۔اس مضمون میں پہلی قسم پر کلام کیا جائے گا۔ پہلی قسم کلچریا ثقافت سے تعلق رکھتی ہے اورجہاں...

ایک بلی کی در رسولﷺ سے محبت کا واقعہ

تصویر
  ایک بلی کی در رسولﷺ سے محبت کا واقعہ ایک بلی کی در رسولﷺ سے محبت کا واقعہ اک بہت بڑے بزرگ انتقال کر گئے ہیں جناب سید منظور احمد شاہ صاحب انہوں نے اک کتاب لکھی تھی ( مدینتہ الرسول ﷺ) اُس میں حضرت لکھتے ہیں میں ایک بار حج کرنے کے لئے آیا تو پاکستان سے ایک سیاسی بندہ بھی حج کرنے کے لئے آیا ہم ایک ہی کمرے میں ٹھہرے ھوئے تھے  شاہ صاحب لکھتے ہیں کے ہم نے دروازہ کھولا تو ا یک بلی اندر آگئی تو ہم نے بڑی محبت کی کے یہ شہر رسول اللّٰہ ﷺ کی بلی ہے کہتے ہیں کہ اس وقت روٹی تھی ہم نے پیش کی تو اُس نے بھی قبول کر لی اگلے روز پھر آئ تیسرے روز پھر آئی تو ہم نے ایک قدم آگے بڑھایا اور مارکیٹ میں بلییوں کے لئے جو خاص پروڈکٹ (خوراک ) بنی ہے ہم وہ خرید لائے جب بھی بلی آتی ہم وہ خوراک اسے کھلاتے رہے۔   پھر ہوا یوں کے جو سیاسی شخصیت آئ تھی پاکستان سے وہ بلی سے جی لگا بیٹھی اور اس نے فیصلہ کیا جاتے ھوئے بلی کو ساتھ لے کے جانا ہے پاکستان ۔ پرویز مشرف کا دور حکومت تھا اجازت لی سعودی حکومت سے اجازت لی پی آئی اے سے کاغذی کروائی مکمل کروائی بلی کے لئے بہت خوبصورت پنجرہ تیار کروایا گیا۔  من...

خانہ کعبہ کے اندر لٹکے ہوئے برتن نوادرات دراصل کیا ہیں؟

تصویر
  خانہ کعبہ کے اندر لٹکے ہوئے برتن نما نوادرات دراصل کیا ہیں؟ ہم میں سے اکثر لوگ جب خانہ کعبہ کے اندرونی مناظر دیکھتے ہیں تو جو چیز ہم کو سب سے زیادہ عجیب لگتی ہے وہ پرانے برتن نما نوادرات ہیں۔ آج ہم اس پوسٹ میں خانہ کعبہ کے اندرونی منظر پر مختصر تعارف پر بات کریں گے۔ کعبۃ اللہ قریباً 180 مربع میٹر رقبے پر محیط ہے اور اس کی چھت لکڑی کے تین مضبوط ستونوں پر ایستادہ ہے. ستونوں کی لکڑی دنیا کی مضبوط ترین لکڑیوں میں سے ایک ہے اور صحابیِ رسول حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے لکڑی کے یہ تینوں ستون بنوائے تھے. گویا اس وقت ان کو تقریباً 1350 سال گزر چکے ہیں.ان کی رنگت گہری بھوری ہے. لکڑی کے ہر ستون کا عمود ( محیط) قریباً 150 سینٹی میٹر اور قطر (موٹائی) 44 سینٹی میٹر ہے.ان تینوں ستونوں کے درمیان میں ایک پتلی شہتیر نما لٹھ آویزاں ہے اور یہ تینوں کے بیچوں بیچ گزرتی ہے.اس پر کعبۃ اللہ کے تحائف اور نوادرات لٹکے ہوئے ہیں. یہ برتن نما نوادرات مختلف اسلامی ادوار کے دوران اسلامی ممالک کے سربراھان کی طرف سے کعبہ شریف میں پیش کئے جانےجانے والے نوادرات ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ان میں کچھ نوادرات دور نبوی...

غزوہ بدر الکبریٰ

تصویر
  غزوہ بدر الکبریٰ محترم قارئینِ کرام : غزوہ بدر تاریخ اسلام کا وہ معرکہ ہے جب اسلام وکفر ، حق و باطل کی پہلی ٹکر ہوئی ، اس معرکہ میں فرزندانِ اسلام کی تعدادکفار کے مقابلے میں ایک تہائی تھی ، بے سروسامانی کا عالم تھا جبکہ باطل ، حق کامقابلہ کرنے کےلیے بڑے کرّوفر اور غرورورعونت کیساتھ میدان میں اترا لیکن اسے ایسی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا کہ پھر کبھی بھی اسے حق کو اس شان سے للکارنے کی ہمت نہ ہوئی ۔ مؤرخین اسے غزوہ بدر الکبریٰ کے نام سے یاد کرتے ہیں جبکہ قرآن عظیم میں یوم الفرقان کے لقب کیساتھ ذکر کیا گیا ہے یعنی وہ دن جب حق اور باطل کے درمیان فرق اس طور پر واضح ہواکہ اندھوں اوربہروں کو بھی پتہ چل گیا کہ حق کا دعویدار کون ہے اور باطل کا محب کون ہے ؟ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وما انزلناعلی عبدنایوم الفرقان یوم التقیٰ الجمعٰن ۔ (سورہ الانفال:۱۴) ترجمہ : اور جیسے ہم نے اتارا اپنے بندے پر فیصلے کے دن جس روز دولشکر آمنے سامنے ہوئے تھے ۔ نبی کریم کرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ تین سوتیرہ افراد کولے کرقریش کے تجارتی قافلے کوروکنے کےلیے نکلے جوکہ شام سے ابو سفیان کی سربراہی م...